فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : کچے بچے کا نام رکھو کہاللہ تعالٰیاس کے ذَرِیعے تمہاری میزان(یعنی عمل کے ترازو) کو بھاری کرے گا (اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۲ ص۳۰۸حدیث ۳۳۹۲ ) ٭’’محمد ‘‘ نام رکھنے کے بارے میں تین فرامین ِمصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : {۱}جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ میریمَحَبَّت اور میرے نام سے بَرَکت حاصل کرنے کیلئے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنّت میں جائیں (جَمْعُ الْجَوامِع ج۷ ص۲۹۵ حدیث۲۳۲۵۵ ) {۲}روزِ قِیامت دو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُضُور کھڑے کئے جائیں گے ، حکم ہوگا : انہیں جنّت میں لے جاؤ ۔ عرض کریں گے : الٰہی عَزَّ وَجَلَّ!ہم کس عمل پر جنّت کے قابِل ہوئے ؟ہم نے تو جنّت کا کوئی کام کیا نہیں ! فرمائے گا : جنّت میں جاؤ، میں نے حَلَف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا(فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۸۷، اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّابج۵ ص۵۳۵حدیث۹۰۰۶){۳}تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں (الطبقات الکبری لابن سعد ج۵ ص۴۰ )یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جو لکھا ہے اُس کا خلاصہ ہے : اِسی لئے میں نے اپنے سب بیٹوں ، بھتیجوں کا عقیقے میں صرف محمد نام رکھاپھر نامِ مبارک کے آداب کی حفاظت اور بچّوں کی پہچان ہو سکے اِس لئے عُرف( یعنی پکارنے والے نام) جُدا مُقرَّر کئے ۔ بِحَمدِ اللّٰہ پانچ محمد اب بھی موجود ہیں جبکہ پانچ سے زائد اپنی راہ کو گئے یعنی وفات پا چکے ہیں ۔ (مُلَخَّص از فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۸۹)حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد