Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
39 - 45
’’نامِ محمد میٹھا لگتا ہے ‘‘ کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے نام رکھنے کے  بارے میں  18 مَدَنی پھول
      ٭دو فرامین ِمصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  : (۱)  اچّھوں   کے نام پر نام رکھو    (اَلْفِردَوس بمأ  ثور الْخطّاب، ج۲ ص۵۸ حدیث ۲۳۲۹ )(۲)قِیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں   کے نام سے پکارا جائے گا لہٰذا اپنے اچّھے نام رکھو(ابوداوٗد ج۴ ص۳۷۴حدیث ۴۹۴۸)٭صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں  : بچّے کا اچّھا نام رکھا جائے ، ہندوستان میں   بَہُت لوگوں   کے ایسے نام ہیں   جن کے کچھ معنٰی نہیں   یا ان کے بُرے معنی ہیں   ایسے ناموں   سے اِحتِراز(یعنی پرہیز) کریں  ۔ انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے اسمائے طیِّبہ اور صَحابہ و تابِعِین و بُزُرگانِ دین(رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجمَعِین) کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے ، اُمّید ہے کہ ان کی بَرَکت بچّے کے شاملِ حال ہو(بہارِ شریعت ج۳ ص ۶۵۳)٭بچّہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ اُس کی خِلقت(یعنی پیدائش) تمام (یعنی مکمَّل )ہو یا نا تمام(نامکمَّل) بَہَرحال اس کا نام رکھا جائے اور قِیامت کے دن اُس کا حشر ہو گا(یعنی اُٹھایا جائیگا ) (دُرِّمُختارج۳ ص ۱۵۳ ۔ ۱۵۴ ، بہارِ شریعت ج۱ ص ۸۴۱)معلوم ہوا جو بچّہ کچّا گر جائے اُس کا بھی نام رکھا جائے ۔  جیسا کہمکتبۃُالمدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’اولاد کے حقوق‘‘صَفحہ17پرہے : نام رکھے یہاں  تک کہ کچے بچے کابھی جوکم دنوں  کاگرجائے ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں  شاکی ہوگا ۔ ( یعنی شکایت کریگا)