Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
37 - 45
مبتَلا ہو کر دنیا و آخِرت برباد کر بیٹھیں   تو تَعَجُّب نہیں   ۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفتاوٰی رضویہ  جلد 23صَفحَہ 388پر فرماتے ہیں   : بِلاضَرورت سفر میں  زیادہ رَہنا کسی کو نہ چاہئے ، حدیث  میں   حکم فرمایا ہے کہ’’ جب کا م ہو چکے سفر سے جلد واپَس آؤ ۔ ‘‘[ مُسلِم ص۱۰۶۳ حدیث۱۹۲۷] اور جو وطن میں   زَوجہ چھوڑ آیا ہو اُسے حکم ہے کہ جہاں  تک بن پڑے چار ماہ کے اندر اندر واپَس آئے (کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مسلمانوں   کو یہی حکم فرمایا تھا) {۴}ہر اُس کام و مَقام سے بچے جس سے شَہوَت کو تحریک ملتی ہو مَثَلاً جن کاموں   یا جگہوں   پر اَمرَ دوں   سے واسِطہ پڑتا ہو اُن سے دُور رہے {۵} بھابھی، تائی، چچی، مُمانی، چچا زاد، خالہ زاد، ماموں   زاد اور پھوپھی زاد کا شَرعاً پردہ ہے ، جومعاذ اللہ اِن سے نِگاہیں   نہ بچاتا ہو، بے تکلُّف بنتا ، ہنسی مذاق کرتا ہو اور شَہوَت کی کثرت کی شکایت بھی کرتا ہووہ احمقوں   کا سردار ہے کہ خود ہی آگ میں  ہاتھ ڈالتا پھر چلّاتا ہے کہ بچاؤ! بچاؤ! میرا ہاتھ جَلاجاتاہے ! یِہی حال فلمیں  ، ڈرامے دیکھنے والے اور گانے باجے سننے والے کا ہے {۶} رُومانی ناولیں  ، عِشقیہ وفِسقیہ افسانے اور اسی طرح کے اخباری مضامین، بلکہ’’ گندی خبروں  ‘‘ اور عورَتوں   کی تصویروں   سے بھرپوراخبار ات پڑھنے سے اجتِناب کرے  ۔ ورنہ بدنگاہی سے خود کو بچانا انتہائی دشواراورشَہوَت کی کثرت سے بچنا مشکل ترین ہوگا ۔  کہا جاتا ہے :  ’’ خود کردہ را علاجے نَیست‘‘ یعنی اپنے ہاتھوں   کے کئے کا کوئی علاج نہیں   ۔ (شَہوَت پرستیوں   اور مَرد و عورت کی ہینڈ پریکٹس کی جُداجُداتباہ کاریوں   کی مزید معلومات کے لیے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مبلِّغ اسلام،