Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
33 - 45
میں   بَہُت بڑی دیوار بن چکا ہے ، امتِحان، سخت امتِحان ہے ، مگر امتِحان سے گھبرانا مَردوں   کا شیوہ نہیں  ۔ صَبر کرکے اَجر لوٹنا چاہیے کہ شَہوَت جتنی زیادہ تنگ کرے گی صَبر کرنے پر ثواب بھی اُتنا ہی زیادہ ملے گا ۔  اگرشَہوَت کی تسکین کیلئے ناجائز ذرائع اختیار کئے تو دونوں   جہانوں   کا نقصان اور جہنَّم کا سامان ہے ۔  حضرت ِسیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں  : ’’شَہوَت کی گھڑی بھر پَیروی طویل غم کا باعِث ہوتی ہے ۔ ‘‘	(اَلزّھدُ الکبیر لِلْبَیْہَقِی ص۱۵۷حدیث۳۴۴)  
پیغامِ حیا
	یہ لکھتے ہوئے کلیجہ کانپتا اور حیا سے قلم تھرّاتا ہے ، مگر میری ان معروضات کو بے حیائی پر مبنی نہیں   کہا جاسکتا بلکہ یہ تو عین درسِ حیا ہے ۔  ’’اللہ عَزَّوَجَلَّدیکھ رہا ہے ۔ ‘‘ یہ ایمان رکھنے کے باوُجُود جو لوگ اپنے زُعمِ فاسِد(یعنی ناقص خیال) میں   ’’چُھپ کر‘‘ بے حیائی کا کام کرتے ہیں   ان کیلئے حیا کا پیغام ہے ۔  آہ! گندی ذِہنیَّت کے حامِل کئی نوجوان (لڑکے اور لڑکیاں  ) شادی کی راہیں   مَسدُود(یعنی بند) پاکر اپنے ہی ہاتھوں   اپنی جوانی برباد کرنا شروع کردیتے ہیں  ۔ ابتِداءًاگر چِہ لُطف آتا ہو، مگر جب آنکھ کھلتی(یعنی اِحساس بیدار ہوتا) ہے توبَہُت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔  یاد رہے ! یہ فعل حرام و گناہ ہے اور حدیثِ پاک میں   ایسا کرنے والے کو ’’ملعون‘‘ کہا گیا ہے اور وہ جہنَّم کے درد ناک عذاب کا  حقدار ہے ۔  آخِرت بھی داؤ پر لگی اور دنیا میں   بھی اِس کے سخت ترین نقصانات ہیں  ، اِس غیر فِطری عمل