میں بَہُت بڑی دیوار بن چکا ہے ، امتِحان، سخت امتِحان ہے ، مگر امتِحان سے گھبرانا مَردوں کا شیوہ نہیں ۔ صَبر کرکے اَجر لوٹنا چاہیے کہ شَہوَت جتنی زیادہ تنگ کرے گی صَبر کرنے پر ثواب بھی اُتنا ہی زیادہ ملے گا ۔ اگرشَہوَت کی تسکین کیلئے ناجائز ذرائع اختیار کئے تو دونوں جہانوں کا نقصان اور جہنَّم کا سامان ہے ۔ حضرت ِسیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’شَہوَت کی گھڑی بھر پَیروی طویل غم کا باعِث ہوتی ہے ۔ ‘‘ (اَلزّھدُ الکبیر لِلْبَیْہَقِی ص۱۵۷حدیث۳۴۴)
پیغامِ حیا
یہ لکھتے ہوئے کلیجہ کانپتا اور حیا سے قلم تھرّاتا ہے ، مگر میری ان معروضات کو بے حیائی پر مبنی نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ تو عین درسِ حیا ہے ۔ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّدیکھ رہا ہے ۔ ‘‘ یہ ایمان رکھنے کے باوُجُود جو لوگ اپنے زُعمِ فاسِد(یعنی ناقص خیال) میں ’’چُھپ کر‘‘ بے حیائی کا کام کرتے ہیں ان کیلئے حیا کا پیغام ہے ۔ آہ! گندی ذِہنیَّت کے حامِل کئی نوجوان (لڑکے اور لڑکیاں ) شادی کی راہیں مَسدُود(یعنی بند) پاکر اپنے ہی ہاتھوں اپنی جوانی برباد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ ابتِداءًاگر چِہ لُطف آتا ہو، مگر جب آنکھ کھلتی(یعنی اِحساس بیدار ہوتا) ہے توبَہُت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ یاد رہے ! یہ فعل حرام و گناہ ہے اور حدیثِ پاک میں ایسا کرنے والے کو ’’ملعون‘‘ کہا گیا ہے اور وہ جہنَّم کے درد ناک عذاب کا حقدار ہے ۔ آخِرت بھی داؤ پر لگی اور دنیا میں بھی اِس کے سخت ترین نقصانات ہیں ، اِس غیر فِطری عمل