والا بھی ہے کہ بروزِ قِیامت اِس پراللہ تعالٰی نہ نَظَرِ رَحمت فرمائیگا اورنہ ہی اُسے پاک کریگا بلکہ اُسے سیدھا جہنَّم میں جانے کا حکم دیاجائے گا ۔ ( تَنبِیہُ الْغافِلین ص۷۳ ) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سُوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ( مُشت زَنی کرنے والا) گنہگار ہے عاصی ہے ، اِصرار کے سبب مُرتکبِ کبیرہ ہے ، فاسِق ہے ۔ مزید فرماتے ہیں : جو مُشت زَنی (یعنی ہینڈ پریکٹسHand practice ) کرتے ہیں اگر وہ بِغیر توبہ کئے مر گئے تو بروزِ قِیامت اِس حال میں اُٹھیں گے کہ ان کی ہتھیلیاں گابَھن (یعنی حامِلہ) ہوں گی جس سے لوگوں کے مجمعِ کثیر میں ان کی رُسوائی ہوگی ۔ (مُلَخَّص ازفتاویٰ رضویہ ج۲۲ ص۲۴۴)
برباد جوانی
گناہوں کے سَیلاب کی ہلاکت سامانیاں ! فَحّاشی اورعُریانی (یعنی بے حیائی اور بے پردگی )کا طوفان، مَخلُوط تعلیمی نِظام، مَردوں اور عورَتوں کا اِخْتِلاط یعنی میل جول، T.V. اور انٹرنیٹ پر فلمیں ، ڈِرامے اورشَہوت افزا مناظر، رسائل و جرائد کے Sex appeal مضامین وغیرہ نے مل جل کر آج کے نوجوان کو باؤلا بنا ڈالا ہے ! حضرتِ سیِّدُنا زید بن خالد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے : ’’اَلشَّبَابُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْجُنُوْن‘‘ یعنی جوانی دیوانگی ہی کا ایک شُعبہ ہے ۔ (مسندُ الشّہاب ج۱ ص۱۰۰ حدیث۱۱۶) آج کے نوجوان پر شیطان نے اپنا گھیرا تنگ کردیا ہے ، خواہ وہ بظاہِرنَمازی اور سنّتوں کا عادی ہی کیوں نہ ہو، اپنی شَہوت کی تسکین کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے ، مُعاشَرہ اپنے غَلَط رسم و رواج کے باعِث بے چارے کی شادی