Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
30 - 45
اِسی طرح کریں   ٭جب بھی بیٹھیں   پردے میں   پردہ لازِمی کیجئے ٭بنے سنورے رہنے سے اِجتِناب فرمایئے  ۔ اِسی رسالے کے صَفحہ 25تا26پردی ہوئی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی حکایت کی روشنی میں    اَمرَدکا حَلق کرواتے (یعنی سر مُنڈواتے )رَہنا بھی مناسِب ہے اور اگر سنّت کی نیّت سے زلفیں   رکھنی ہوں   تو آدھے کان سے زائد نہ رکھے ٭ گوٹا کَناری والے جاذبِ نظر بڑے عمامے کے بجائے سستے کپڑے کا سادہ سا چھوٹا عمامہ شریف اور وہ بھی خوبصورت انداز میں   باندھنے کے بجائے قدرے ڈِھیلا سا باندھئے ٭ عمامہ شریف پر نقشِ نعلِ پاک وغیرہ نہ لگایئے کہ اِس طرح لوگوں   کی نگاہیں   اٹھتیں  اور بعضوں   کے لئے ’’ بدنِگاہی ‘‘ کا سامان ہوتا ہے ٭ چہرے پر Cream یا پاؤڈرہرگز ہرگز مت لگایئے ٭ ضَرورت ہو تو حتَّی الامکان سستے والا سادہ ساعینک استعمال کیجئے ، دھات کی خوبصورت فریم لگا کر دوسروں   کیلئے بدنگاہی کے گناہ کا سبب مت بنئے ٭ بدبو سے بچنا ہی چاہئے ، لہٰذاعِطربے شک لگایئے مگر وہ کہ جس کی خوشبو نہ پھیلے ٭ اپنے لباس و انداز میں   ہر اُس مُباح چیز (یعنی جائز چیز جس کا کرنا ثواب ہو نہ گناہ مَثَلاً اِستری کئے ہوئے کپڑے وغیرہ) سے بھی بچنے کی کوشش فرمایئے جس سے لوگ مُتَوَجِّہہو کر مَعَاذَ اللہ بدنگاہی کے گناہ میں   پڑسکتے ہوں   ۔ (امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے اَمرَد شاگرد کیلئے سر منڈوانے اور پُرانا لباس پہنانے کا حُکم فرمایا اسے خوب ذہن میں   رکھئے )
مَدَنی التجا : والِدَین اور اساتِذہ وغیرہ کو بھی چاہئے کہ مذکورہ مَدَنی پھولوں   کی روشنی میں