Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
29 - 45
 اُس کو بھی )مَدَنی قافِلے میں   سفر کی اِجازت نہیں   ، اگر کوئی بڑا اسلامی بھائی اپنے ساتھ سفر کرنے کے لئے اِصرار کرے اور سفر کا خَرچ بھی پیش کرے تو مَدَنی مرکز کے حکمِ مُمانَعَت کی طرف اُس کی توجُّہ دلادے پھر بھی اگر مُصِرہو(یعنی اصرار کرے ) تو اُس’’ بڑے ‘‘سے خوب محتاط ہو جائیے ٭ بڑے اسلامی بھائیوں   سے بے شک الگ تھلگ رہئے ، مگر خواہ مخواہ کسی پر بد گُمانی کرکے ، غیبتوں  ، تہمتوں   اور مَدَنی ماحول کو خراب کرنے والی حرکتوں   میں   پڑ کر اپنی آخِرت داؤ پر نہ لگائیے ٭عید کے دن بھی لوگوں   سے گلے ملنے سے بچئے ، مگر کسی کو جِھڑکئے نہیں  ۔ حکمتِ عملی کے ساتھ کَترا کر آگے پیچھے ہوجائیے ، اَمرَد بھی ایک دوسرے سے گلے نہ ملیں   ٭والِدَین اور ناناداداوغیرہ خاندان کے بُزُرگوں   کے علاوہ کسی کے سَر یا پاؤں   وغیرہ مت دَبائیں  نیز کسی اسلامی بھائی کو اپنا سر یا پاؤں   دبانے دیں   نہ ہاتھ چُومنے دیں   ٭کوئی پرہیزگار، خواہ رشتے دار بلکہ اُستاذہی کیوں   نہ ہو احتیاط اِسی میں   ہے کہ ہر بڑے کے ساتھ بلکہ اَمرَدبھی  اَمرَدکے ساتھ تنہائی سے بچے ۔  ہاں   والِد، سگے بھائی وغیرہ کے ساتھ کوئی مانِع نہ ہو توتنہائی میں   مُضایَقہ نہیں   ٭مدرَسے وغیرہ میں   کئی افراد جب ایک کمرے میں   سوئیں   تو اَمرَد وغیر اَمرَدسبھی کو چاہئے کہ پاجامے کے اوپر تہبندباندھ لیں  نہ ہوتو کوئی چادر لپیٹ کر پردے میں   پردہ کرکے ، ہر دو کے درمِیان مُناسِب فاصِلہ رکھیں   اور ممکن ہو توبیچ میں   کوئی تکیہ یابیگ وغیرہ بڑی چیز آڑ بنا لیں   ۔ گھر میں   بلکہ اکیلے میں   بھی پردے میں   پردہ کرکے سونے کی عادت بنائیں  ، مَدَنی قافلے اور اجتِماع وغیرہ میں   بھی سوتے وَقت