کی جارہی ہو یا کسی کو دیکھنے یا اُس سے ملنے کیلئے ہُجُوم ہو ایسے مَواقِع پر دھکّم پیل سے اَمرَد اور غیرِ اَمرَد سبھی کو بچنا چاہئے ۔ ہر ایک جانتا ہے کہ کعبۃ اللّٰہ کے اندر داخِل ہونابَہُت بڑی سعادت ہے مگر ایسے موقع پر بھی بھیڑ بھاڑ میں گُھسنے سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے صدرالشَّریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ زبردست ( یعنی طاقتور) مَرد(کعبہ شریف میں داخِل ہوتے وَقت دَبنے کُچلنے سے ) آپ بچ بھی گیا تو اَوروں کو دھکّے دیکر اِیذا دیگا اور یہ جائز نہیں ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ج ۱ص۱۱۵۰)طواف میں حجرِ اَسود کو چومنا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ثابِت ہے مگر اس کیلئے ہُجوم میں گُھسنے کی مُمانَعت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ : اِس کیلئے ’’ نہ اوروں کوایذا دو نہ آپ دبو کُچلو‘‘ بلکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کر کے انہیں بوسہ دے لو ۔ اِلخ ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۱۰ ص ۷۳۹) بَہَرحال ہُجوم میں گُھسنے سے بچنا چاہئے کہ کہیں ہماری وجہ سے کسی کو اِیذا نہ پہنچ جائے ۔ میں نے کئی سمجھدار اسلامی بھائیوں کو دیکھا ہے کہ بھیڑ کے موقع پر دُور کھڑے رہتے ہیں ، ہر ایک کو ایسا ہی کرنا چاہئے ۔ اگر کبھی ہُجوم میں گِھر بھی جائیں تو اس سے پہلے کہ دھکم پیل شروع ہو باہَر نکلنے کی ترکیب کرنی چاہئے مگر نکلتے ہوئے بھی کسی کو اِیذا نہ ہواِس کا خیال رکھا جائے ۔
امامِ اعظم کا اَمْرَد کے بارے میں طرزِ عمل
حضرتِ سیِّدُناامام محمد رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدجب بارگاہِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں پڑھنے کیلئے حاضر ہوئے تو بے رِیش اور اَ مرَدِ حَسین تھے ، سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ