اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 54 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ نصیحتوں کے مَدَنی پھول ‘‘ صَفْحَہ 44پرہے : (اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے اے ابنِ آدم!)میری حرام کردہ چیزوں کی طرف مت دیکھ (قَبر میں ) کیڑے سب سے پہلے تیری آنکھ کھائیں گے ۔ یادرکھ ! حرام پر نظراوراس کیمَحَبَّتپرتیر امُحاسَبہ (یعنی پوچھ گچھ) کیا جائے گا ۔ اورکل بروزِ قِیامت میرے حُضور کھڑے ہونے کو یاد رکھ! کیونکہ میں لمحہ بھر کے لئے بھی تیرے رازوں سے غافِل نہیں ہوتا، بے شک میں دلوں کی بات جانتا ہوں ۔
نظر کی حفاظت کرنے والے کیلئے جہنَّم سے اَمان ہے
جو اَمرَدوں اورغیر عورَتوں وغیرہ کی موجودَگی میں آنکھیں جھکاتا، اپنی گندی خواہِش دباتا اور ان کو دیکھنے سے خود کو بچاتا ہے وہ قابلِ صد مبارَکباد ہے چُنانچِہ ’’ نصیحتوں کے مَدَنی پھول‘‘ صَفحَہ30پر ہے : ( اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے )جس نے میری حرام کردہ چیزوں سے اپنی آنکھوں کو جُھکا لیا(یعنی انہیں دیکھنے سے بچا)میں اسے جہنَّم سے اَمان(پناہ) عطاکر دوں گا ۔
ابلیس کا زہریلا تیر
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکیمَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ حَلاوَت نشان ہے کہ حدیثِ قُدسی(یعنی فرمانِ خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ) ہے : نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زَہر میں بُجھاہواتِیر ہے پَس جو شخص میرے خوف سے اِسے ترک کر دے تو میں اُسے ایسا ایمان عطا کروں گاجس کی حَلاوت(یعنی مٹھاس)