اَموات کے واقعات ہوتے رہتے ہىں۔ (1)اصل یہ ہے کہ جب کسی کے سانسوں کی گنتی پوری ہو جائے تو اُسے موت آجاتی ہے ۔ بس اللہ پاک ہمارا اِىمان سَلامت رکھے اور ہمیں بُرے خاتمے سے بچائے ۔ ہم کمزور بندے سُوال کرتے ہىں کہ اللہ پاک اىمان و عافىت کے ساتھ ہمىں مدىنۂ پاک مىں زىرِ گنبدِ خَضرا شہادت کی موت نصىب کرے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِىِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مجھے مَرنا ہے آقا گُنبدِ خضرا کے سائے مىں
وطن مىں مَر گىا تو کىا کروں گا یارَسُوْلَ اللہ (وسائلِ بخشش)
قبر پر سَلام کرنے کا طریقہ
سُوال: قبر پر جائىں تو کِس طرح سَلام کرىں؟
جواب: جب قبرستان میں جائیں تو کعبہ کی طرف پىٹھ کرکے قبر والوں کى طرف مُنہ کر
________________________________
1 - رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اچانک موت غضب کی پکڑ ہے ۔ (ابوداود، کتاب الجنائز، باب موت الفجاة، ۳ / ۲۵۲، حدیث: ۳۱۱۰ دار احیاء التراث العربی بیروت)اِس حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسِّر حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ہارٹ فیل کی موت غضب ِ رَبّ کی علامت ہے کیونکہ اِس میں بندے کو توبہ، نیک عمل، اچھی وَصیت کا موقع نہیں ملتا مگر یہ کافر کے لیے ہے ، مؤمن کے لیے یہ بھی نعمت ہے کیونکہ مؤمن کسی وقت رَبّ سے غافل رہتا ہی نہیں۔ دیکھو حضرتِ سلیمان و یعقوب عَلَیْہِمَا السَّلَام کی وفات اچانک ہی ہوئی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: اچانک موت مؤمن کے لیے راحت ہے اور کافر کے لیے پکڑ۔ (مسند امام احمد، مسند السیدة عائشة رضی الله عنها، ۹ / ۴۶۲، حدیث: ۲۵۰۹۶ دار الفکر بیروت)کہ مؤمن اس موت میں بیماریوں کی مصیبت سے بچ جاتا ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۴۱ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)