Brailvi Books

قسط نمبر37:زائد اُنگلیاں کٹوانا کیسا؟
17 - 17
بچوں کو اِعتکاف میں لانے کے نقصانات
بعض بچے آٹھ نو سال کے ہوتے ہیں اور سمجھدار بھی ہوتے ہیں اکیلے ہوں گے تو شرافت سے بیٹھیں گے اور نماز وغیرہ بھی پڑھیں گے لیکن جہاں یہ ایک سے دو ہوئے ساری مسجد سرپر اُٹھالیں گے۔ لہٰذا اگر کوئی کہے کہ میرا بچہ شریف ہے کچھ نہیں کرے گا اور دوسرا  شخص بھی یہی سوچ کر اپنے بچے کو مسجد میں لے آئے  تو یہ دونوں شریف مل کر شرافت کی دَھجیاں بکھیر دیں گے ، بہت سوں کو اس کا تجربہ بھی ہو  گا۔ بہتر یہی ہے کہ بچوں کو اپنے ساتھ نہ لایا جائے۔ اگر کوئی  بچہ اِس طرح کرے تو اسے  روکنا واجب ہو گا۔ اِس کے عِلاوہ اور بھی کافی پریشانیوں  کا سامنا کرنا پڑے گا مثلاً مَدَنی مذاکرے میں کوئی ایسا موضوع چل رہا ہو جسے  سننےمیں بھی مَزہ آ رہا ہے اور اچانک بچہ بولے کہ ابو بھوک لگ رہی ہے  یا پانی پینا ہے پھر اس وقت پانی پلانے جائیں گے  تو جو بیان ہورہا تھا  اس سے بچے کا والد تو محروم ہو گا ہی ساتھ ساتھ دو چار  لوگ  اور بھی اس  کی  وجہ سے پریشان ہوں گے۔ پھر بچہ کہے گا ابو مجھے پیشاب آ رہاہےتو اسے لے کر جانا پڑے گا نہیں لے کر گئے تو وہ  وہیں کر دے گا۔ بچے اس طرح کی گڑ بڑ کر دیتے ہیں ، کبھی کہے گا نیند آ رہی ہےکیونکہ سمجھ نہیں آتا تو پھر نیند آتی ہے اب ان کو سُلانے کا مسئلہ ہوتا ہے ، نہ یہ خود سنتے سمجھتے ہیں نہ والد کو سننے سمجھنے دیتے ہیں لہٰذا مہربانی کر کے بچوں کو اپنے ساتھ نہ لائیں اور یہ مَدَنی اِلتجا صِرف ماہِ رَمَضان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے سال کے لیے ذہن نشین کر لیجیے۔ Quantity کے بجائےQuality پر نظر رکھیے ، چاہے پوری ٹرین کے بجائے چند بوگیاں ہی لانا پڑیں  یا صرف ایک بس ہی لا سکیں۔ مگر جن اسلامی بھائیوں کو لایا جائے وہ سلجھے ہوئے اور خوفِ خُدا والے ہوں کہ ان کو دیکھ کر اللہ   یاد آجائے ، نہ  کہ ایسے ہوں کہ کوئی باہر کا بندہ آکر دیکھے تو بَدظن ہو کر  چلا جائے اور کہے کہ ہم نے تو بڑی تعریف سنی تھی   جبکہ یہاں تو تکار اور لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں۔    
٭٭٭