Brailvi Books

قسط نمبر37:زائد اُنگلیاں کٹوانا کیسا؟
16 - 17
مَسئلہ یہ ہےکہ جس کے زخم ، مُنہ یا کپڑوں سے بَدبو آرہی ہو اسے  مسجد میں  داخل ہونا ممنوع ہے۔ (1) 
 مَساجد میں  ناسمجھ بچوں کو   نہ  لائیں
یہ بھی  ذہن میں رکھیے  کہ رَمَضانُ المبارک میں مُلاقات کی ترکیب نہیں ہو پاتی کیونکہ رات چھوٹی ہوتی ہے مَدَنی مذاکرہ بھی نمازِ تَراویح کے بعد شروع ہوتا ہے پھر سحری کا وقفہ بھی کرنا ہوتا  ہے۔ بعض اسلامی بھائی بچوں کو لے آتے ہیں اور   مُلاقات کے لیے  ضِد کرتے ہیں کہ مُلاقات کر لو۔ آدمی بچوں پر رحم کھا کر مُلاقات کر بھی لےتو یہ ڈنکا بجا دیں گے کہ ہمارے بچوں کی مُلاقات ہو گئی ہے تو اگلے دِن 10 بچے اور آجائیں گے۔ پھر یہی بچے مسجد میں شور و غل کرتے ، ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے اور کبڈی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں ، والد نمازِ تراویح پڑھ رہا ہوتا ہے اوربچہ پیچھے شور کر رہا ہوتا ہے۔ بچوں کے حوالے سے یہ مَسئلہ یاد رَکھیے کہ ایسا بچہ جس کےبارے میں غالِب گمان ہو کہ یہ پیشاب کر دے گا اسے  مسجد میں لانا جائز نہیں اور ایسا بچہ جس کے بارے میں غالِب گمان ہو کہ یہ بتا دے گا تو اسے مسجد میں لانا مکروہِ تنزیہی  یعنی ناپسندیدہ ہے۔ (2)اور اگر ایسا بچہ ہے جو مسجد میں شور مچائے  گا ، اِدھر اُدھر بھاگے گا ، مسجد کا اِحترام پامال کرے گا نیز  نمازیوں کی تکلیف کا باعِث بنے گا  بھلے10 سال کا ہی  کیوں نہ ہو باپ کو اس کے بارےمیں علم ہو کہ یہ ایسا ایسا  کرے گا تو اسے  مسجد میں لانا گناہ ہو گا۔ (3)ایسے بچے عموماً ان  مَساجد میں ہوتے ہیں جو آبادی والے علاقوں میں بنی ہوتی ہیں ، کئی اسلامی بھائیوں کو اس کا تجربہ ہو گا کہ یہ  کس قدر ہلہ گلہ کرتے ہیں۔  



________________________________
1 -    اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : بچہ اور مجنون اور مجذوم اور بَرص اور بَدبو کے زخم والے اور کچالہسن ، پیاز کھانے والے اور مُفسِد(فساد کرنے والے )اور مُوذی (اِیذا دینے والے) شرع نے انہیں مسجد میں آنے کاحق نہ دیا بلکہ مسجد سے دور کرنے کاحکم دیا۔ (اظہار الحق الجلی ، ص۶۴ ملتقطاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
2 -    در مختار مع ردالمحتار ،  کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة و ما یکره فیھا ، ۲ / ۵۱۸  
3 -    اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : اگر (بچوں سے)نجاست کا ظنِّ غالب ہو تو انہیں مسجد میں آنے دینا حرام اور حالت محتمل ومشکوک ہو تومکروہ ۔ اگربچے بلکہ بوڑھے بھی بے تمیز ، نامہذب ہوں ، غل مچائیں ، بے حرمتی کریں ، مسجد میں نہ آنے دیئے جائیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۶ / ۴۵۸ ملتقطاً)