صاحبِ مِعراج صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔ ۱۲ منہ
نوافل بھی کھڑے ہو کر پڑھے جائیں
سُوال : نماز کے آخر میں دو نفل بیٹھ کر کیوں پڑھے جاتے ہیں؟(ایک اسلامی بہن کا سُوال)
جواب : نوافل کھڑے ہو کر ہی پڑھنے چاہئیں کیونکہ کھڑے ہو کر پڑھیں گے تو پورا ثواب ملے گا، اگر بِلاعُذر بیٹھ کر پڑھیں گے تو آدھا ثواب ملے گا ۔ (1) لہٰذا نوافل بھی کھڑے ہو کر ہی پڑھنے چاہئیں ۔ یہ عوام کا خیال ہے کہ نوافل بیٹھ کر پڑھنے چاہئیں حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ (2)
مدینہ سب کا ہے
سُوال : ہند اور نیپال کے اسلامی بھائی آپ کی خدمت میں عرض کر رہے ہیں کہ کیا چل مدینہ کی سعادت ہند کے اسلامی بھائی بھی حاصِل کر سکتے ہیں؟(رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : سُبْحٰنَ اللّٰہ! عاشقانِ رَسول دُنیا میں کہیں بھی ہوں مدینہ سب کا ہے ، کسی ایک ملک والوں کا مدینہ نہیں ہے ۔ زہے نصیب! انہیں بھی مدینے کی حاضری نصیب ہو جائے ۔ مَاشَآءَ اللّٰہ میرے غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ہند سے کثیر عاشقانِ رَسول ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کی حاضری سے مُشَرَّف ہوتے ہیں ۔
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۲۶۶
2 - کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت ہو جب بھی بیٹھ کر نفل پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے کہ حدیث میں فرمایا : بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نصف ہے ۔ (مسلم، کتاب صلا ة المسافرين و قصرها، باب جواز النافلة قائما و قاعدا... الخ، ص۲۸۹، حديث : ۱۷۱۵) اور عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہو گی ۔ یہ جو آج کل عام رواج پڑ گیا ہے کہ نفل بیٹھ کر پڑھا کرتے ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید بیٹھ کر پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں ایسا ہے تو ان کا خیال غَلَط ہے ۔ وتر کے بعد جو دو رَکعت نفل پڑھتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے اور اِس میں اُس حدیث سے دلیل لانا کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے وتر کے بعد بیٹھ کر نفل پڑھے ۔ ( مسلم، کتاب صلا ة المسافرين و قصرها، باب صلاة الليل...الخ، ص ۲۹۰، حديث : ۱۷۲۴)صحیح نہیں کہ یہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کے مخصوصات میں سے ہے ۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۶۷۰، حصہ : ۴)