Brailvi Books

قسط 32:شُتُر مُرغ کے بارے میں دِلچسپ معلومات
19 - 20
جواب : جی ہاں!بالکل دیکھ سکتا ہے ، اِس میں کیا حَرج ہے ؟البتہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ دیکھنے والے نے جو دیکھا ہے وہ جَنَّت ہی ہے ؟ ممکن ہے دیکھنے والے نے کوئی اچھا اور خوش نما باغ دیکھا ہو اور دِل میں یہ خیال پیدا ہوگیا ہو  کہ میں اس وقت جَنَّت میں ہوں ۔ حقیقت میں ہم جَنَّت اُسی وقت دیکھیں گے جب آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے پیچھے پیچھے اِنْ شَآءَ اللّٰہ جَنَّت  میں داخل ہوں گے ، کیونکہ ہم رَسُوْلُ اللہ کے جَنَّت رَسُوْلُ اللہ کی ۔  
بہرحال بزرگانِ دِینرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کے اِس طرح کے واقعات ہیں جن میں انہوں نے جَنَّتی حوروں وغیرہ کو مُلاحظہ فرمایا ہے ۔ یُوں ہی جَنَّت میں جانے کے خواب کتب میں لکھے ہوئے ہیں لیکن خواب ہمارے لیے دَلیل نہیں ۔ حقیقت میں جس ہستی نے جَنَّت اور حوروں کو دیکھا ہے وہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰ ، شَبِ اَسریٰ کے دُولہا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے مِعراج کی رات جَنَّت کی سیر فرمائی ہے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے علاوہ کسی نے خواب وغیرہ میں کچھ دیکھا تو اس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے بعینہٖ جَنَّت ہی  دیکھی ہے ۔  یہاں تو عقل بھی جَنَّت کا اَندازہ نہیں لگا سکتی کہ جَنَّت کیا چیز ہے ؟ اور وہ کتنا اعلیٰ مقام ہے ؟کیونکہ ہماری عقلیں ناقص ہیں اور اللہ پاک کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی عقل مُبارَک  کامل تھی، کامل ہے اور کامل  رہے گی ۔ (1) 
یاد رَکھیے !جَنَّت پر اِیمان لانا فرض ہے اگر کوئی جَنَّت کا اِنکار کرے گا تو وہ  کافر ہو جائے گا ۔ ہم بے دیکھے غیب پر اِیمان لانے والے ہیں قرآنِ پاک میں ہے : (یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ) (پ۱، البقرة : ۳)ترجمۂ کنز الایمان : ”بے دیکھے اِیمان لائیں ۔ “ جَنَّت بھی ایک غیب ہے  اور اللہ پاک تو غیبُ الغیب ہے  ہم اس پر اِیمان لاتے ہیں ۔ بہارِ شرىعت جلد 1 صفحہ 152 کے حاشیے میں لکھا ہے :  یعنی بے دیکھے ورنہ دیکھ کر توآپ ہی جانیں گے تو جنہوں نے حالتِ حیاتِ دُنیوی ہی میں مُشاہدہ فرمایا (یعنی جنت کو دیکھا)وہ اِس حکم سے مُسْتَثْنٰی ہیں یعنی سِرے سے یہ حکم انہیں شامل ہی نہیں، عَلَی الْخُصُوْص(یعنی خُصُوصاً)



________________________________
1 -    حضرتِ سَیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے 71 آسمانی کتب  میں لکھا دیکھا کہ اللہ پاک نے دُنیا  کی اِبتدا سے لے کر  اس کے ختم ہونے تک (یعنی قیامت کے قائم ہونے تک)تمام جہان کے لوگوں کو جتنی عقل عطا کی ہے وہ سب مل کر نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آگے ایسی ہے جیسے تمام دُنیا کے  ریگستانوں کے سامنے ریت کا ایک ذَرّہ اور بے شک آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ عقل والے ہیں ۔  ( سبل الھدیٰ والرشاد، الباب الثالث، ۱  / ۴۲۷   دارالکتب العلمیة بیروت)