سکوئی چیز دینے سے اِنکار کر دیں تو کیا ہم گناہ گار ہوں گے؟ (مدینہ پور دُنیا پور سے سُوال)
جواب:اگر کوئی مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی شریف زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں سُوال کرتا ہے تو اسے کچھ دینے یا نہ دینے کی وُہی صورتیں ہیں جو دِیگر مَساجد میں کسی سائل کو دینے کی ہیں۔جیسے آج کل لوگ مَساجد میں کھڑے ہو کر مانگنا شروع کر دیتے ہیں ایسوں کو دینے سے تو منع کیا گیا ہے،انہیں دینے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر کسی نے مسجد میں ان کو کچھ پیسے دیئے تو اُسے چاہئے کہ مسجد سے باہر جا کر ایک روپیہ کا 70 روپیہ بطورِ کفارہ دے۔ (1)
اگر مسجدِ نبوی شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں اِس طرح پیسے دیئے تو اس کا حکم اور بھی سخت ہو گا پھر یہ مُعاملہ مسجدِ حرام شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں ہوا تو حکم مزید سخت ہو جائے گا کیونکہ جَواز و عدمِ جَواز(یعنی جائز اور ناجائز ہونے) کے مَسائل اپنے وطن کے مقابلے میں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر”اللہ بھلا کرے“ کہنے میں کوئی حَرج نہیں کہ اس کو دُعا دی ہے۔
کیا حَرَمَیْنِ شَرِیْفَیْن کے پہاڑوں پر گھاس اُگنا قیامت کی نشانی ہے؟
سُوال:کیا حَرَمَیْنِ شَرِیْفَیْن کے پہاڑوں پر گھاس کا اُگنا قیامت کی نشانی ہے؟ (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال)
جواب:یہ بات ابھی کی مشہور کردہ ہے ورنہ پہلے بھی وہاں گھاس اُگتی تھی حتّٰی کہ حدیثِ پاک میں اُحُد شریف کی گھاس کھانے کی تَرغیب موجود ہے۔ (2)
بلی کے جُوٹھے کا حکم
سُوال:اگر بلی دُودھ میں مُنہ ڈال دے تو وہ دُودھ پینے کے لائق رہے گا یا نہیں؟ (ضلع لیہ سے سُوال)
جواب:بلی کا جُوٹھا کوئی پینا چاہے تو منع نہیں ہے۔بلی کا جُوٹھا پھینکنے کے بجائے بہتر ہے کہ بلی ہی کو پلا دیا جائے ۔(3)
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ،۱۶/۴۱۸ ماخوذاً
2 - معجم اوسط،باب الالف،من اسمه احمد، ۱/۵۱۶،حدیث:۱۹۰۵دار الکتب العلمية بيروت
3 بلّی کا جوٹھا مکروہِ تنزیہی ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے:گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے۔اچھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو کوئی حَرَج نہیں۔اِسی طرح مکروہ جھوٹے کا کھانا پینا بھی مالدار کو مکروہ ہے۔غریب محتاج کو بِلا کراہت جائز۔ (بہارِ شریعت، ۱/۳۴۳، حصہ:۲ ملتقطاً)