کرنے کا مسئلہ ہو جاتا ہے ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے ؟
جواب:کھانے کے آداب میں سے ہے کہ سب اِس اَنداز سے کھائیں کہ ایک ساتھ فارغ ہوں مگر آج کل تو جلدی جلدی کھاکر پیچھے ہَٹ جاتے ہیں ۔ جلدی کھانے میں اگر یہ نیت ہو کہ لوگوں پر کم کھانے اور پیٹ کا قفلِ مدینہ لگانے کا Impression (یعنی تأثر) پڑے تو یہ اَنداز بالکل دُرُست نہیں کیونکہ اس طرح جلد بازی میں کھانے والا کھاتا نہیں بلکہ نگلتا ہے کم کھانا تو دور کی بات ہے ۔ نگلنے والا جلدی فارغ ہوجاتا ہے اور جو واقعی چبا چبا کر کھا رہے ہوتے ہیں وہ کھاتے رہتے ہیں لہٰذا ہر نوالہ خوب اچھی طرح چبا کر ہی کھانا چاہیے ۔ چھوٹے بچے جو ڈیڑھ دو سال کے ہوتے ہیں یہ لقمہ چبا نہیں سکتے انہیں بھی اگر بڑا نوالہ دیا جائے تو یہ بغیر چبائے نگل جاتے ہیں بلکہ چار چار سال کے بچوں کو بھی دیکھا ہے کہ ان کو چبانا نہیں آتا تو ایسے بچوں کو چھوٹا نوالہ نرم کر کے دینا چاہیے تاکہ یہ بغیر چبائے نگلیں بھی تو پیٹ میں آسانی رہے ۔
کھانے والے کے چہرے کو نہ دیکھیے
اِسی طرح کھانا کھانے والے کے چہرے کو بھی نہیں دیکھنا چاہیے کہ حدیثِ پاک میں منع فرمایا گیا ہے ۔ (1) مگر آج کل تو نہ صِرف کھانے والے کو دیکھتے ہیں بلکہ اس کے عِلاوہ بھی بہت کچھ کر رہے ہوتے ہیں ۔ جن کو کھانا کھاتے
________________________________
1 - معرفة الصحابة، باب العین، ابو عمر، ۴ / ۵۱۷، حدیث:۶۹۵۰دار الکتب العلمیة بیروت