اپنے ہاتھ سے مہمان کی پلیٹ میں زبردستی ڈال دینے والا مُعاملہ بہت ہے ۔ میرے ساتھ بھی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے تو آزمائش ہو جاتی ہے لہٰذا مہمان کو یہ تو کہا جائے کہ اور کھا لیجیے مگر از خود اس کی پلیٹ میں کھانا نہ نکالا جائے ۔ (1)
اگر میزبان از خود مہمان کی پلیٹ میں کھانا نکالتا ہے تو اس سے مہمان کو یہ تکلیف بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چاول نکالنا چاہتا تھا اور میزبان خوب مصالحے والی بریانی اس کی پلیٹ میں بھر دے اب مہمان اگر میزبان کے ”لیجیے ، کھائیے “ والے مَدَنی پھول سُن کر اس کا مان رکھتا ہے تو پیٹ کا مان جاتا ہے کیونکہ مصالحہ پیٹ میں جا کر جو حال کرے گا اس کے الگ ہی مَسائل ہوں گے اور اگر نہ کھائے تو میزبان اس کو کچھ نہ کچھ مَدَنی پھول دیتا رہے گا ۔
مِل کر کھانے میں دوسروں کا خیال کیجیے
میں کافی عرصے سے ایک بات نوٹ کر رہا ہوں، بعض اوقات اس کا اِظہار بھی کیا ہے مگرعین موقع پر کہنا مُناسب نہیں ہوتا کیونکہ سامنے والے کو شرمندگی ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ جب چند اَفراد مِل کر ایک تھال میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور کھانا کھلانے والوں میں سے کوئی ان کے تھال میں مزید کھانا ڈالنے کے لیے آتا ہے تو جس نے پہلے کھانا کھالیا ہوتا ہے اور اسے بھوک نہیں لگ رہی ہوتی تو
________________________________
1 - میزبان کو چاہیے کہ مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اس پر اِصرار نہ کرے کہ کہیں اِصرار کی وجہ سے زیادہ نہ کھا جائے اور یہ ا س کے لیے مُضر (یعنی نقصان دہ)ہو ۔ (بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۹۴، حصہ:۱۶)