گھر گھر مىں مَدَنى چىنل موجود ہے ۔ دِیگر شُعبہ جات اور مَجالس ہیں ۔ ہم نے اس مَدَنی تحریک سے فائدہ اُٹھاکر سارى دُنىا مىں نىکى کى دعوت کى خوب دھومىں مچانی ہیں ۔ جتنى مَساجد اب ہىں اس سے دُگنى، تگنی مَساجد بنانی ہیں اور اس کے لىے ہمىں دعوتِ اسلامى کو قوت دىنی ہو گی ۔ صِرف سوچنے اور کڑھنے سے کچھ نہىں ہوتا، کرنے سے کام ہوتا ہے لہٰذا کڑھن کے ساتھ ساتھ کام کرنے کا جذبہ بھى ہونا چاہىے ۔ کام کرنے سے راستے کشادہ ہو جاتے ہىں ۔ اللہ پاک ہمىں مَدَنى کام کرنے کى توفىق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
دعوت میں کھانے کے آداب
سُوال:ہم کہیں دعوت پر جاتے ہیں تو بعض اوقات کھانے سے پہلے پیٹ کے قفلِ مدینہ(یعنی بھوک سے کم کھانے ) کی نیت بھی ہوتی ہے مگر میزبان زبردستی مزید کھانے کا تقاضا کرتا ہے اور از خود ہماری پلیٹ میں کھانا ڈال دیتا ہے ایسی صورت میں پیٹ کا قفلِ مدینہ کیسے لگایا جائے ؟ نیز مزید کھانا نکالنے کی وجہ سے اگر وہ کھانا بچ جائے اور ضائع ہو تو اس کا گناہ کس پر ہو گا؟
جواب:اگر واقعی کسی نے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگایا ہے اور وہ گھر میں بھی کم کھاتا ہے تو دعوت میں ایسا مُعاملہ ہونے سے وہ آزمائش میں آجائے گا ۔ اس کا حَل یہ ہے کہ جب دعوت میں جائے تو خوب چبا چبا کر کھائے کہ اِس طرح کھانے میں دیر ہو گی تو میزبان کی اِس کی جانب توجہ نہیں جائے گی اور یہ بھی دِیگر مہمانوں کے