نماز کے لیے جائیں تو جو بھی سامنے آئے اس کو پیار محبت سے مسجد کی طرف لے جائیں، اس طرح مسجد بھر جائے گی ، جب مسجد بھر جائے گی تو نماز پڑھنے میں مزید لُطف و سرور پیدا ہو گا کیونکہ جب مسجد خالی ہوتی ہے تونمازی اُداس ہوتا ہے جیسا کہ رَمَضانُ المبارک میں مَساجد بھرجاتی ہیں پھر عید کی نماز میں بھی خوب رَش ہوتا ہے مگر عید ہی کی ظہر میں کیا حالت ہوتی ہے کہ نمازی ہی نہیں ہوتے نہ جانے ان کو زمین نگل جاتی ہے یا آسمان کھا جاتا ہے ۔
مَسائل آنے پر حل تلاش کرنے پر غور کیجیے
(اس موقع پر نگرانِ شُورىٰ نے فرمایا:)اللہ پاک ہم سب کووہ دَرد نصیب کرے جو امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا نیک اور نمازی بنانے کے متعلق ہے ۔ ہم دىکھتے ہىں کہ اگر رہائشی بلڈنگ میں خُدانخواستہ آگ لگ جائے تو فائربرگیڈ کا عملہ نىچے کھڑے ہو کر یہ نہىں بولتا:I Can not do any thing یعنی مىں کچھ نہىں کر سکتا بلکہ وہ یہ کہتا ہے : What can I do?یعنی مىں کىا کر سکتا ہوں؟تو یوں وہ ایک دو یا جتنوں کو بچانا ممکن ہوتا ہے بچانے کى کوشش کرتا ہے ۔ اسى طرح مُعاشرے میں جو بے عملى کى آگ لگى ہوئى ہے تو اگر دعوتِ اسلامى کے مبلغىن امىر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے سُنَّتوں بھرے ، دَرد بھرے پىغام کو اپنے دِل کے مَدَنى گلدستے مىں سجا لىں تو اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ دىکھیں گے کہ بہت کچھ تبدیلی نظر آئے گی ۔ ہمیں کوئی پرابلم آئے تو ہم دىکھ کر تھک جاتے