نیت کو عملی جامہ پہنانا ہی کمال ہے
برمنگھم والوں کی ایک تعداد نے ہاتھ اُٹھاکر اپنی نیتوں کا اِظہار کیا ان کے ذِمَّہ داران کی طرف سے اچھی اچھی نیتیں کرنے والوں کی لِسٹ بھی آجائے گی لیکن پھر ہو سکتا ہے کہ یہی لوگ بیٹھ کر دِل جَلائیں کہ یار ہم نے تو 1200نام دئیے اور پڑھنے والے 12بھی نہیں ہیں ۔ یہ بات میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کر رہا ہوں ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ برمنگھم والے وعدے اور اِرادے دونوں کے سچے ہوں ۔ بہرحال ان میں سے جس نے جو نیت کی ہے وہ اس پر کاربند رہے تاکہ اُٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رہے ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ لوگ ہاں تو بول دیتے ہیں مگر اس کو عملی جامہ نہیں پہناتے اگر واقعی یہ لوگ اپنا ذہن بنا لیں کہ ہمیں الیاس قادری کے لیے نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا کے لیے قرآن پڑھنا اور پڑھا نا ہے تو بہت فوائد حاصِل ہو سکتے ہیں ۔
”نمازی بناؤ اور نمازی بڑھاؤ“تحریک میں شامل ہو جائیے
اِسی طرح جو بے نمازی ہیں وہ نمازیں پڑھنے لگ جائیں جو ابھی یہاں (یعنی عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں)حاضِر ہیں اور جو مَدَنی چینل وغیرہ پر دیکھ سُن رہے ہیں چاہے وہ نمازی ہوں یا نہ ہوں سب”نمازی بناؤ اور نمازی بڑھاؤ“تحریک چلائیں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بے نمازی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ۔ لیکن ہمارے اندر گویا مچھلی کا خون ہے کیونکہ وہ رُکا ہوا ہوتا ہے چلتا