وجہ سے دِل بہت اُداس و پریشان ہوتا ہے ، ایسی صورت میں ہمارا کیا اَنداز ہونا چاہیے ؟ آپ نے بھی نیکی کی دعوت دی ہے اس میں آپ کا کیا انداز ہوا کرتا تھا اس حوالے سے کچھ مَدَنی پھول عطا فرما دیجیے ؟
جواب:مَاشَآءَ اللّٰہ نیکی کی دعوت کے لیے کڑھنا اور لوگ دعوت قبول نہ کریں تو اس پر دِل جَلانا بڑی سعادت کی بات ہے ۔ نیکی کی دعوت کے لیے ایسا ہی جَذبہ ہونا چاہیے لیکن یہ دیکھ لیا جائے کہ سامنے والے کے ساتھ کیسا رویہ اِختیا ر کرنا ہے ؟ یہ نہ ہو کہ اس کو جھاڑنا شروع کر دیں کہ تم نماز نہیں پڑھتے ، جہنم میں جانے والا کام کرتے ہو ۔ اِس اَنداز سے کام ہونے کے بجائے خراب ہو جائے گا اور اس کی دِل آزاری بھی ہو گی کیونکہ یہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف یعنی نیکی کی دعوت دینے کا طریقہ نہیں ہے ۔ اِس حوالے سے کون سختی کرے گا اور کس کے لیے نرمی سے پیش آنے کا حکم ہے اس کے اپنے اُصول و قَواعد ہیں مگر عام طور پر ہم جو نیکی کی دعوت دیتے ہیں اِس میں صِرف اور صِرف نرمی ہی کرنی ہے ۔
ہے فَلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں
ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
پیار محبت اور نرمی سے کام چلایا جائے اور نیکی کی دعوت دینے سے ہرگز مایوس نہ ہوا جائے کیونکہ ہمارا کام مَنوانا نہیں بلکہ دعوت پہنچانا ہے ، جب ہم نے نیکی کی دعوت پہنچا دی ہمارا ثواب کھرا ہوگیا اب سامنے والا اس پر عمل نہیں کرتا پھر