لے کر چلیے کہ مِل جُل کر چلیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سب بہتر ہو جائے گا ورنہ شیطان کہیں ناچاقیاں نہ پیدا کر دے ۔
اسکول ٹیچرز اور پروفیسرز بھی قرآنِ پاک پڑھائیں
سُوال:کیا اسکول ٹیچر ز اور پروفیسرز بھی مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھائیں؟
جواب:بے شک دُنىوی یا دِىنى اِعتبار سے جو جتنا بھی بڑا ہے اُسے قرآنِ کرىم پڑھنا اور پڑھانا چاہىے جبکہ وہ دُرُست طریقے سے قرآنِ پاک پڑھانا جانتا ہو ۔ قرآنِ کریم پڑھنے اور پڑھانے کے مُعاملے میں کوئی دَرَجہ متعین نہیں کہ فُلاں دَرَجے کا آدمی ہو تو وہ پڑھائے گا ، اس سے بڑے دَرَجے کا ہوا تو اسے پڑھانے کى ضَرورت نہىں بلکہ قرآنِ کریم سبھی کو پڑھانا چاہیے ۔ قرآنِ کرىم مىرے مصطفے ٰ کرىم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ذَرىعے ہمیں ملااور ہم نے اسے پڑھا اور پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے قرآنِ کریم پڑھنے اور پڑھانے کے فضائل بىان فرمائے اور ترغىبات بھی اِرشاد فرمائىں ہیں ۔
نیکی کی دعوت کے لیے کڑھنا بھی سعادت ہے
سُوال: ہم نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور دَرس و بیان کی سعادت بھی میسر آتی ہے ، اِس دَوران ہم کسی کو نماز پڑھنے کا کہتے ہیں یا مَدَنی حلقے اور ہفتہ وار اِجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں یا اس کے عِلاوہ کوئی نیکی کی دعوت پیش کرتے ہیں تو سامنے والا غصے میں آ جاتا ہے ، اگر وہ نماز نہ پڑھے تو ہمیں بھی غصہ آجاتا ہے جس کی