کرتی ہے ، لہٰذا یہ نِصف ہے ۔ (1)
مسجد میں دھونی دینے میں اِحتیاطیں
سُوال: اگر مسجد مىں دھونى دىنی ہوتو اس مىں کیا اِحتىاطىں کرنی ہوں گى؟
جواب: اب تو مَساجد کو خوشبودار کرنے کے لیے اسپرے کے اِستعمال کا رواج ہے ۔ اگر کوئی مسجد میں دھونی دینا چاہے تو اس کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ہوگا مثلاً مسجد میں راکھ نہ اُڑے ۔ ٭ دىا سلائى ىعنى ماچس کى تىلى مسجد مىں جَلانا جائز نہىں کىونکہ اس کے بارود کى بَدبو اُڑتى ہے اور مسجد کو بَدبو سے بچانا واجِب اور خوشبودار بنانا ثواب کا کام ہے لہٰذا اتنی دور سے جَلا کر لاىا جائے کہ بارود کی بَدبو مسجد مىں داخِل نہ ہو ۔ ٭بعض جگہ دھونی دینے کے لیے کوئلہ بھى جَلاتے ہىں تو اگر کوئلہ بَدبو والا ہو جیساکہ بعض کوئلوں سے بَدبو آتی ہے تو اسے مسجد مىں جَلانے سے بچنا ہوگا لہٰذا اسے باہر اتنی دیر جَلا لیں کہ بَدبو ختم ہو جائے ۔ ٭ طوافِ کعبہ مىں بعض مالدار شىوخ جب طواف کرتے ہیں تو ان کے آدمی عُود کى لکڑى خوشبودان میں جَلا کر رکھتے ہىں، جس سے چاروں طرف خوشبو پھىل رہى ہوتى ہے ۔ ایسا کرنے سے اِحرام والوں کے لىے آزمائش ہوتى ہے اس لیے کہ حالتِ اِحرام مىں جان بوجھ کر خوشبو سونگھنا مکروہِ تنزىہى یعنی اچھا نہىں ہے ۔ ٭لائٹر بھی مسجد میں نہ جَلایا جائے کىونکہ اس مىں پىٹرول ہونے کے سبب بَدبو
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۲۳۲