Brailvi Books

قسط 13:گُلاب کی پتّیوں پر پاؤں رکھنا کیسا؟
27 - 30
	پڑھنے سے نماز ہو گی ہی نہیں ۔  ایسی صفائی جس میں ناپاکی نہ ہو اور نہ ہی  میل کچیل تو یہ تنظیف ہے  اور یہ سُنَّت بھی ہے ۔ اگر کوئی چیز ناپاک ہے تو وہ صاف نہیں کہلائے گی اور اگر وہ ناپاک نہیں ہے اور اس پر میل کچیل لگی ہوئی ہے تب بھی  اُسے صاف نہیں کہا جائے گا البتہ اگر اس پر میل کچیل تو  ہے مگر وہ ناپاک نہیں ہے تو وہ پاک ہے ۔   
(امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: )ایک حدیثِ پاک میںاَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِ یْمَانِ (یعنی پاکی نصف اِیمان ہے ۔ ) (1)کے اَلفاظ بھی ہیں ۔  شَطْر بمعنیٰ نِصف ہوتا ہے ۔  حکیمُ الامت حضرتِ مُفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  نے اس کی وضاحت بھی فرمائی ہے کہ پاکی کو   نصف اِیمان کیوں کہا جاتا ہے ؟ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں:  ظاہر یہ ہے کہ طُھُوْر سے ظاہری پاکی اور اِیمان سے عُرفی اِیمان مُراد ہے ۔  چونکہ اِیمان بھی گناہوں کو مِٹاتا ہے اور وُضوبھی، لیکن اِیمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مِٹا دیتا ہے اور وُضو صِرف چھوٹے ، اس لیے اسے آدھا اِیمان فرمایا ۔ اِیمان باطِن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وُضو ظاہر کو گندگیوں سے ، اور ظاہر، باطن کا گویا  نِصف ہے یا اِیمان  دِل کو  بُرائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طہارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک



________________________________
1 -    مشکاة المصابیح، کتاب الطھارة ، الفصل الاول، ۱ / ۷۲ ، حدیث: ۲۸۱