Brailvi Books

قسط 13:گُلاب کی پتّیوں پر پاؤں رکھنا کیسا؟
26 - 30
	 کپڑوں کو پہلے الگ سے پاک کر لیا جائے اور پھر میل اُتارنے کے لیے دوسرے میلے کپڑوں  کے ساتھ انہیں  مشین میں ڈال دیا جائے تاکہ سب اکٹھے دُھل جائیں  اس میں کوئی حَرج نہیں ۔ (1) 
”صفائی نِصف اِیمان ہے “کی وَضاحت
سُوال: عام طور پر جب صفائی نِصف اِیمان کی بات ہوتی ہے تو خوبصورتى اور بعض صفائىاں دِکھائى جاتى ہىں تو کیا صِرف اسى صفائى کى اِسلام مىں اَہمىت ہے ىا کچھ اور بھى صفائى کا مفہوم ہے ؟
جواب: حدیثِ پاک میں ہے : اَلطُّھُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَانِ (یعنی پاکی نِصف اِیمان ہے ۔ ) (2) اور ایک ہے  نَظافت جس کے بارے میں کہا گیا: اَلنَّظَافَۃُ مِنَ الْاِیْمَانِ (یعنی نَظافت اِیمان سے ہے ۔ ) ۔ نَظافت اور طُھُوْر دونوں میں کچھ فرق ہے ۔  صفائی ستھرائی کو نَظافت اور پاک ہونے کو طُھُوْر کہا جاتا ہے ۔  نَظافت اور طُھُوْر کے فرق کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر میلے کپڑوں میں نماز پڑھی تو  ہو جائے گی اور اگر کپڑے ناپاک ہیں اگرچہ ناپاکی نظر نہیں آ رہی مگر اُن میں اتنی زیادہ نجاست لگی ہوئی ہے کہ جو نماز کے لیے رُکاوٹ ہے تو ایسے کپڑے پہن کر نماز  



________________________________
1 -    مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے  مطبوعہ رِسالے ”کپڑے پاک کرنے کا طریقہ “ کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 
2 -    ترمذی، کتاب الدعوات، باب(ت: ۹۲)، ۵ / ۳۰۸، حدیث: ۳۵۲۹