Brailvi Books

قسط 13:گُلاب کی پتّیوں پر پاؤں رکھنا کیسا؟
24 - 30
	 بہت اچھا ہے اور بڑی دیکھ بھال کر کے مجھے دَوا دے رہا ہے ، حالانکہ ڈاکٹر کو پتا ہوتا ہے کہ اُس نے مریض کو کیا دَوا دینی ہے ۔ مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبان مریض پر نفسیاتی اَثر ڈالنے کے لیے اِس طرح چیک کرتے ہوں گے ۔  اِسی طرح جب دوا بن رہی ہوتی ہے تو اس دَوران اگر مریض بولے کہ ڈاکٹر صاحب مجھے یوں بھی ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب دوا تو دے چکے ہوتے ہیں لہٰذا اب مریض پر مزید نفسیاتی اَثر ڈالنے کے لیے کمپاؤنڈر کو آواز دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایکوا (Aqua)کر دینا جس کے سبب مریض یہ سمجھتا ہے کہ کمپاؤنڈر کو  مزید دوا ڈالنے کا کہا جا رہا ہے حالانکہ ایکوا (Aqua) پانی کو کہتے ہیں  یعنی ڈاکٹر صاحب کمپاؤنڈر کو  کہتے ہیں کہ دوا میں پانی مِلا دینا ۔ 
نفسیاتی اَثر دِلانے والا وہ اَنداز کہ جس میں نہ تو جھوٹ ہو، نہ ہی کوئی گناہوں بھری صورت ہو اور نہ ہی اس میں مَریض کا کوئی نُقصان ہو تو ضَرورتاً ایسے اَنداز کا جائز ہونا سمجھ میں آتا ہے ۔  بسااوقات نفسیاتی گفتگو سے بہت فَوائد حاصِل ہوتے ہیں اور مریض موج  میں آ جاتا ہے ۔  یاد رَکھیے ! اگر مریض کو ڈرایا جائے مثلاً اگر اُسے  کہا جائے کہ جو مَرض تمہیں ہے یہی مَرض ہمارے پڑوسی کو بھی ہوا تھا جس کے باعِث وہ چار دِن میں بستر پر آ گیا اور آٹھ دن بعد اُس کا جنازہ اُٹھا، اب تمہیں بھی وہی بیماری لگ گئی ہے ، اب تمہارا کیا ہو گا؟ اس طرح کی باتیں کرنا  گویا مریض کے لیے بلیک وارنٹ جاری کرنا ہے لہٰذا اب وہ  سنبھل