کا صَدقہ نکالنے کے لیے بکرا یا مُرغی ذَبح کر کے دینا زیادہ اچھا ہے اور زندہ دینے میں بھی کوئی حَرج نہیں ۔ اِسی طرح رَقم ، کپڑا اور اَناج وغیرہ چیزیں بھی صَدَقے میں دی جا سکتی ہیں ۔ سُوال میں جو صَدَقے کی صورتیں بتائی گئیں یہ بابا جی لوگوں کے ڈھکوسلے ہوتے ہیں انہیں اِختیار کرنے سے بچنا چاہیے ۔ صَدَقہ نکالنے کے لیے زندہ مُرغ پھینک دینا یا بکرے کی سِری یا پائے قبرستان کے چوراہے میں دَفن کرنا مال کو ضائع کرنا ہے اور ایسا صَدَقہ جس میں مال کو ضائع کیا جائے حرام ہے ۔ (1)
رہی بات پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنے کی تو مجھے لگتا ہے کہ یہ بابا جی لوگوں پر تأثر (Impression) ڈالنے کے لیے بولتے ہوں گے کہ مُرغ پھینک دینا اور پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا ۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ بابا جی ایسی جگہ مُرغ یا بکرا پھینکوا رہے ہوں کہ جہاں پہلے سے ہی بابا جی کے بندے موجود ہوں کہ جیسے ہی بکرا یا مُرغ چھوڑا جائے وہ اسے پکڑ کر لے جائیں لہٰذا بابا جی اس خوف سے کہ اگر مُرغ یا بکرا چھوڑنے والے نے مُڑ کر دیکھ لیا تو کہیں میرا بھانڈا پھوٹ نہ جائے ۔ اس لیے صَدَقہ نکالنے والے کو یہ کہہ کر خوفزدہ کر دیتے ہوں کہ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا اور اگر دیکھنے پر کچھ ہوا تو مجھے نہیں بولنا ۔
بعض صورتوں میں ”مُڑ کر نہ دیکھنا“بطورِ محارہ بھی اِستعمال ہوتا ہے جیسا کہ یہ
________________________________
1 - فتاوی رضویہ ، ۲۰ / ۴۵۵ ماخوذاً