Brailvi Books

قسط29: آنکھ پھڑکنا
3 - 24
اناج ضائع کرنا حرام ہے 
یاد رہے کہ جان بوجھ کر مال ضائع کرنا حرام اور جہنم مىں لے جانے والا کام ہے ۔ (1)روٹى یا اس کے ٹکڑے بچ جائیں تو خود ہى انہیں اِستعمال کر لیجیے ىا پھر کسى کو دے دیجیے جو کھا لے یا پھر کسی گائے ، بکری، مُرغى یا  پرندوں وغیرہ کو کِھلا دىجیے ۔ ہمیں اناج کا اىک بھى دانہ پھىنکنا نہىں ہے بلکہ یہ اِہتمام کرنا ہے کہ وہ کسی  اِنسان ىا جانور کے پىٹ مىں جائے ۔    
مُقَدَّس ناموں کو ٹکڑوں میں لکھنا 
سُوال : سىنرىاں ىا پىنٹنگ بنانے میں قرآنى آىات ىا اللہ پاک کے نام کاٹ کاٹ کر لکھے جاتے ہىں ، کىا ىہ لکھنا جائز ہے ؟  
جواب : سُوال سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ سینری یا پینٹنگ میں نام مکمل ہوتا ہے البتہ لکھتے وقت اس کو کاٹ کر لکھا جاتا ہے اس میں حَرج نہیں، البتہ اللہپاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُقَدَّس نام ٹکڑوں میں نہىں لکھنے چاہئیں جىسے بعض مَساجد مىں دَروازے پر نامِ”مُحَمَّد“مَعَاذَ  اللّٰہ ٹو پىس مىں ہوتا ہے کہ دَروازہ کھولنے پر اىک ٹکڑا اِدھر آجاتا ہے اور دوسرا اُدھر چلا جاتا ہے ۔  پھر جب دَروازہ بند کرىں گے تو ىہ پورا نام ”مُحَمَّد“(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) پڑھا جاتا ہے اس سے بچنا چاہىے ۔  اللہ پاک کا نام ہو یا دُرُود شرىف، انہیں  اَدُھورے  اَدُھورے پىس مىں نہ لکھا جائے ۔   
کتابوں کے ناموں کو ٹکڑوں میں لکھنا  
	 آج کل ىہ عُرف بھی جارى ہے کہ جو کُتُب کئى جِلدوں(Volumes) پر مشتمل ہوتى ہىں تو ان کا نام ٹکڑے ٹکڑے کر کے لکھا جاتا ہے جىسے فتاوىٰ رضوىہ شرىف میں نام لکھا ہے ۔ اِسی طرح کوئی تفسىر یا شَرح کئى جِلدوں میں ہے تو اس کا نام ٹکڑوں میں لکھا جاتا ہے  ۔ پھر جب سب جِلدوں کو تَرتیب سے رکھا جائے تو پورا نام پڑھا جاتا ہے ۔  یوں نام لکھنا شرعاً جائز ہے کہ اس پر عُرف ہے  مگر مىرا اپنا ذہن ىہ ہے کہ کتاب مىں بھى ٹکڑوں ٹکڑوں  مىں نام نہ لکھا جائے ۔  میں اسے ناجائز نہیں کہہ رہا کہ اس پر عُرف ہے اور جب تک عُلَما ناجائز نہ کہىں تو مىں کىسے کہہ سکتا ہوں؟ مگر مىرا دِل اس اَنداز کو پسند نہىں کرتا ۔   



________________________________
1 -    جنتی زیور ، ص ۱۵۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی