مسئلہ۱۹: جس کا جوٹھا ناپاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی ناپاک ہے اور جس کا جوٹھا پاک ہے اس کا لعاب اور پسینہ بھی پاک ہے اور جس کا جوٹھا مکروہ ہے اس کا لعاب اور پسینہ بھی مکروہ ہے۔
مسئلہ۲۰: گدھے خچر کا پسینہ اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے چاہے کتنا ہی زیادہ لگا ہو۔
تیمّم کا بیان
جس کا وضو نہ ہو، یا نہانے کی ضرورت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تو وضو اور غسل کی جگہ تیمم کرے، پانی پر قدرت نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں :
پہلی صورت: یہ کہ ایسی بیماری ہو کہ وضو یا غسل سے اُس کے بڑھنے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو چاہے اس نے خود آزمایا ہو کہ جب وضو یا غسل کرتا ہے تو بیماری بڑھتی ہے یا کسی مسلمان پرہیزگار قابل حکیم نے کہہ دیا ہو کہ پانی نقصان کرے گا تو تیمم جائز ہے۔
مسئلہ۱: محض خیال ہی خیال بیماری بڑھنے کا ہو تو تیمم جائز نہیں یوہیں کافر یا فاسق یا معمولی طبیب کے کہنے کا اعتبار نہیں ۔
مسئلہ۲: بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے اورگرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے وضو اور غسل ضروری ہے، تیمم جائز نہیں ، ہاں اگر ایسی جگہ ہو کہ گرم پانی نہ مل سکے تو تیمم کرے، یوہیں اگر ٹھنڈے وقت میں وضو یا غسل نقصان کرتا ہے اور گرم وقت میں نقصان نہیں کرتا تو ٹھنڈے وقت تیمم کرے، پھر جب گرم وقت آئے تو آئندہ کے لیے وضو کر لینا چاہیے، جو نماز اس تیمم سے پڑھ لی اِس کے اعادہ کی حاجت نہیں ۔