Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
96 - 263
مسئلہ ۲:  جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے چوپائے ہوں یا پرنداُن کا جوٹھا پاک ہے جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، کبوتر، تیتر، بٹیر وغیرہ۔
مسئلہ۳:  جو مرغی چُھٹی پھرتی ہے اور غلیظ پر منہ ڈالتی ہے اس کا جوٹھا مکروہ ہے اور اگر بند رہتی ہو تو پاک ہے۔
 مسئلہ۴:   گھوڑے کا جوٹھا پاک ہے۔   (عالمگیری وغیرہ) 
کافر کے جوٹھے کا حکم 
مسئلہ۵:  کافر کا جوٹھا بھی پاک ہے مگر اس سے بچنا چاہیے جیسے تھوک، رینٹھ، کھکھار کہ پاک ہیں مگر آدمی اِن سے گھن کرتا ہے اس سے بہت بدتر کافر کے جوٹھے کو سمجھنا چاہیے۔   (عالمگیری وغیرہ) 
 کن جانوروں کا جوٹھا نجس ہے ؟
مسئلہ۶:   سور، کتا، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جوٹھا ناپاک ہے۔ 
                                                                                     (خانیہ و عالمگیری  وغیرہ) 
مسئلہ۷:  گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جوٹھا مکروہ ہے۔   (خانیہ و عالمگیری) 
مسئلہ۸:  پانی میں رہنے والے جانوروں کا جوٹھا پاک ہے خواہ اُن کی پیدائش پانی میں ہو یا نہ ہو۔
مسئلہ۹:   اُڑنے والے شکاری جانور جیسے شکرا، باز، بہری، چیل وغیرہ کا جوٹھا مکروہ ہے۔