Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
94 - 263
 بکری، اُونٹ ، نیل گاؤ وغیرہ ان کا پیشاب اور گھوڑے کا پیشاب بھی اور جس پرند کا گوشت حرام ہے  (خواہ وہ شکاری ہو یا نہ ہو)  جیسے، کوا، چیل، شکرا، باز، بہری اس کی بیٹ ( 1)   نجاست خفیفہ ہے۔   (ہندیہ وغیرہ)  
مسئلہ۸:  حرام جانوروں کا دودھ نجس ہے البتہ گھوڑی کا دودھ پاک ہے، مگر کھاناجائز نہیں ۔ (بہار شریعت) 
مسئلہ۹:  جو حلال پرند اونچے اڑتے ہیں ، جیسے کبوتر، فاختہ، مینا، مرغابی، قازان کی بیٹ پاک ہے۔
مسئلہ۱۰:  چمگادڑ کی بیٹ اور پیشاب دونوں پاک ہیں ۔   (ردالمحتار) 
 مسئلہ۱۱:  مچھلی اور پانی کے دیگر جانوراور کھٹمل اور مچھر کا خون پاک ہے۔  (عالمگیری وغیرہ) 
مسئلہ۱۲:  پیشاب کی نہایت باریک چھینٹیں سوئی کی نوک برابر کی بدن یا کپڑے پر پڑ جائیں تو کپڑا اور بدن پاک رہے گا۔  (قاضی خان) 
مسئلہ۱۳:  جس کپڑے پر پیشاب کی ایسی ہی باریک چھینٹیں پڑ گئیں اگر وہ کپڑا پانی میں پڑ گیا تو پانی بھی ناپاک نہ ہوگا۔  (بہار شریعت) 
 مسئلہ۱۴:  جو خون زخم سے بہانہ ہو وہ پاک ہے۔  (بزازیہ و قاضی خاں )  
مسئلہ۱۵:  گوشت، تلی، کلیجی، میں جو خون رہ گیا پاک ہے اور اگر یہ چیزیں بہتے خون میں سن جائیں تو ناپاک ہیں بغیر دھوئے پاک نہ ہوں گی۔ ( ہندیہ ، بزازیہ، منیہ) 



________________________________
1 -      بیٹ:چڑیوں کا پاخانہ  (۱۲منہ)