Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
93 - 263
 ہوتا ہے اگرچہ ذبح کیے گئے ہوں ، یوں ہی اُنکی کھال اگرچہ پکائی گئی ہو، (1 )  اور سور کا گوشت، ہڈی کھال بال اگرچہ ذبح کیا گیا ہو، یہ سب نجاست غلیظہ ہیں ۔  (عالمگیری) 
مسئلہ۲:  دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے،یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک ہے یہ بالکل غلط ہے۔  (قاضی خان وردالمحتار) 
مسئلہ۳:   شیر خوار بچے نے دودھ کی قے کی اگر منہ بھر ہے تو نجاست غلیظہ ہے۔ 
 مسئلہ۴:  چھپکلی اور گرگٹ کا خون نجاست غلیظہ ہے۔
مسئلہ۵:  ہاتھی کے سونڈ کی رَطوبت اور شیر، کتے، چیتے اور دوسرے درندے چوپایوں کا لعاب ( 2)   نجاست غلیظہ ہے۔  ( قاضی خان) 
 مسئلہ۶:   نجاست غلیظہ خفیفہ میں مل جائے تو کل غلیظہ ہو جائے۔ 
مسئلہ۷: کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ ہے اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ ( 3)  درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد سمجھی جائے گی، نجاست خفیفہ میں بھی مجموعہ ہی پر حکم دیا جائے گا۔ 
کون کون سی چیزیں نجاست خفیفہ ہیں ؟
	نجاست خفیفہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے جیسے گائے، بیل، بھینس ، بھیڑ،



________________________________
1 -     کھال پکانے سے مراد کھال کو اس طرح بنالیا گیا ہو کہ اس میں نجس رطوبت وغیرہ باقی نہ ہو اور سڑنے بگڑنے کا ڈر نہ ہو جس کو عربی میں دَباغت کہتے ہیں ۔ اس کتاب میں جہاں کہیں کھال کو پکانے کا لفظ آیا ہے وہاں دَباغت مراد ہے آگ میں پکانا مراد نہیں۔ ۱۲منہ سلمہ
2 -      لعاب:تھوک   (۱۲منہ)   
3 -      مجموعہ :اکٹھا   (۱۲منہ)