ہاتھ پیر سر) میں لگی ہو اور اس کے چوتھائی سے کم میں ہو تو معاف ہے، یعنی نماز ہوجائے گی اور اگر پوری چوتھائی میں ہو تو بے دھوئے نماز نہ ہوگی۔ (عالمگیری وغیرہ)
نجا ست غلیظہ و خفیفہ کا فرق کب معتبر ہے ؟
نجاست غلیظہ و خفیفہ کا فرق کپڑے اور بدن پر لگنے میں ہے لیکن اگر کسی پتلی چیز جیسے پانی، سرکہ، دودھ میں ایک قطرہ بھی پڑ جائے چاہے غلیظہ ہوچاہے خفیفہ تو سب کو بالکل نجس کردے گی جب تک کہ وہ چیز دَہ دَردَہ نہ ہو۔ (عالمگیری وغیرہ)
نجاست غلیظہ کیا کیا چیزیں ہیں ؟
{۱} نجاست غلیظہ
آدمی کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے جس سے وضو یا غسل جاتا رہے وہ نجاست غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتاخون، پیپ، منہ بھر قے، حیض و نفاس و استحاضہ کا خون، منی، مذی ، وَدی، دُکھتی ہوئی آنکھ کا پانی، ناف یا پستان کا پانی جو دَرد سے نکلے اورخشکی کے ہر جانور کا بہتا خون خواہ حلال ہو یا حرام حتی کہ گرگٹ ، چھپکلی تک کا خون اور مردار کی چربی، مردار کا گوشت اور حرام چوپائے جیسے کتا، بلی، شیر، چیتا، لومڑی ، بھیڑیا ، گیدڑ، گدھا، خچر ، ہاتھی، سور ان سب کا پاخانہ پیشاب اور گھوڑے کی لید اور ہر حلال چوپائے کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کاگوبر، بکری، اونٹ نیل گاؤ، بارہ سنگھا، ہرن کی مینگنی اور جو پرند اُونچا نہ اُڑے جیسے مرغی اور بط خواہ چھوٹی یا بڑی ان سب کی بیٹ اور ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور سانپ کا پاخانہ پیشاب اور اس جنگلی سانپ اور جنگلی مینڈک کا گوشت جن میں بہتا خون