Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
90 - 263
حالت میں حکم یہ ہے کہ پہلے یہ معلوم کرلیں کہ کتنا پانی ہے جتنا ہو وہ سب نکال دیا جائے، نکالتے وقت جتنا زیادہ ہوتا گیا اس کا کچھ اعتبار نہیں ، مثلاً یہ معلوم کرلیا کہ ہزار ڈول ہے تو ہزار ڈول نکال دیں ، کنواں پاک ہوجائے گا اور یہ معلوم کرنا کہ اس وقت کتناپانی ہے اس کاطریقہ یہ ہے کہ دو مسلمان پرہیز گار جن کو یہ مہارت ہو کہ بتاسکیں کہ اس کنویں میں اتنا پانی ہے وہ جتنے ڈول بتائیں اتنا ہی نکال دیں ، کنواں پاک ہوجائے گا۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پانی کی گہرائی کسی لکڑی یا رسی سے ناپ لیں اور پھر چند آدمی بہت پھرتی سے سو ڈول نکال لیں پھر ناپیں جتنا کم ہوجائے اسی حساب سے پانی نکالیں جیسے پہلی مرتبہ ناپنے سے معلوم ہوا کہ دس ہاتھ پانی ہے پھر سو ڈول نکالنے کے بعد ناپا تو نو ہاتھ رہ گیا تو معلوم ہوا کہ دس سو یعنی ہزار ڈول نکال دیں تو دس ہاتھ پانی نکل جائے گا اور کنواں پاک ہوجائے گا۔
مسئلہ۴۱: کنویں سے مراہوا جانور نکلا تواگر اس کے گرنے کا وقت معلوم ہے تو اسی وقت سے پانی نجس ہے اس کے بعد اگر کسی نے اس سے وضو یا غسل کیا تو نہ وضو ہوا نہ غسل اور اس وضو اور غسل سے جتنی نمازیں پڑھیں وہ سب نہ ہوئیں انہیں پھر پڑھے، یوہیں اس پانی سے کپڑے دھوئے یا کسی اور طرح سے بدن پریا کپڑے پر لگا تو کپڑے اور بدن کا پاک کرنا ضروری ہے اور ان سے جو نمازیں پڑھیں ان کا پھر سے پڑھنا فرض ہے اور اگرگرنے کا وقت معلوم نہیں تو جس وقت سے دیکھا گیا اس وقت سے نجس ٹھہرے گا، اگر چہ پھولا پھٹا ہو اس سے پہلے پانی نجس نہیں اور پہلے جو وضو یا غسل کیا یا کپڑے دھوئے کچھ حرج نہیں تیسیرا ًاسی پر عمل ہے۔  (قال فی الجوھرۃ النیرۃ وعلیہ ا لفتویٰ)