مسئلہ۲۷: دو بلیاں گر کر مرجائیں تو سب پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۲۸: بے وضو اور جس آدمی پر غسل فرض ہے اگر بلا ضرورت کنویں میں اتریں اور ان کے بدن پر نجاست نہ لگی ہو تو بیس ڈول نکالا جائے اور اگر ڈول نکالنے کے لیے اُترا تو کچھ نہیں ۔
مسئلہ۲۹: کنویں میں آدمی گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست نہ تھی تو کنواں پاک ہے، بیس ڈول نکال دیں ۔
مسئلہ۳۰: جن جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا جیسے مچھر، مکھی وغیرہ ان کے مرنے سے پانی نجس نہ ہوگا۔
{فائدہ }
مکھی سالن وغیرہ میں گر جائے تو اُسے ڈُبا کر پھینک دے اور سالن کو کام میں لائے۔ (بہار شریعت)
مسئلہ۳۱: مردار کی ہڈی جس میں گوشت یا چکنائی لگی ہو پانی میں گر جائے تو وہ پانی ناپاک ہوگیا، کل نکالاجائے اور اگر گوشت یا چکنائی نہ لگی ہو تو پاک ہے مگر سور کی ہڈی سے مطلقاً ناپاک ہو جائے گا، چاہے گوشت یا چکنائی لگی ہو یا نہ لگی ہو۔ ( بہارِ شریعت)
مسئلہ۳۲: بچہ نے یا کافر نے پانی میں ہاتھ ڈال دیا تو اگر ہاتھ کا نجس ہونا معلوم ہے جب تو ظاہر ہے کہ پانی ناپاک ہوگیا ورنہ نجس تو نہ ہوا مگر دوسرے پانی سے وضو کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ۳۳: مینگنی اور گوبر اور لید اگرچہ ناپاک ہیں مگر اُن کا قلیل معاف ہے، پانی کی ناپاکی کا حکم نہ دیا جائے گا۔ (خانیہ وغیرہ)