Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
87 - 263
سے ناپاک نہ ہوگا۔  (بہار وغیرہ ) 
مسئلہ۲۱:  پانی کا جانور جیسے مچھلی مینڈک وغیرہ جو پانی میں پیدا ہوتا ہے اگر کنویں میں مرجائے یا مرا ہوا گر جائے تو پانی ناپاک نہ ہوگا، چاہے پھول بھی جائے، لیکن اگر پھٹ کر اس کے ریزے پانی میں مل جائیں تو اس پانی کا پینا حرام ہے۔  
مسئلہ۲۲:  خشکی اور پانی کے مینڈک کا ایک حکم ہے یعنی اُس کے مرنے بلکہ سڑنے سے بھی پانی نجس نہ ہوگا، لیکن جنگل کا بڑا مینڈک جس میں بہنے کے قابل خون ہوتا ہے اس کا حکم چوہے کی مثل ہے، پانی کے مینڈک کی انگلیوں کے بیچ میں جھلی ہوتی ہے اور خشکی کے نہیں ۔   ( بہار شریعت) 
 مسئلہ۲۳:  جس کی پیدائش پانی کی نہ ہو مگر پانی میں رہتا ہو جیسے بط اس کے مرجانے سے پانی نجس ہوجائے گا۔
مسئلہ۲۴:  چوہا، چھچھوندر، چڑیا، چھپکلی، گرگٹ یا ان کے برابر، یا ان سے چھوٹا کوئی جانور دَموی کنویں میں گر کر مرجائے اور ابھی پھولا یا پھٹا نہ ہو تو بیس ڈول سے تیس ڈول تک نکالا جائے اور اگر پھول یا پھٹ جائے تو کل پانی نکالا جائے ۔
مسئلہ۲۵:  کبوتر یا بلی یا مرغی گر کر مرجائے اور پھٹے یا پھولے نہیں تو چالیس ڈول سے ساٹھ ڈول تک پانی نکالاجائے، ان کے بھی پھولنے پھٹنے میں کل پانی نکالاجائے گا۔
مسئلہ۲۶:  دو چوہے گر کر مرجائیں اور ابھی پھولے یا پھٹے نہ ہوں تو بیس سے تیس ڈول تک نکالا جائے اور تین یا چار یا پانچ ہوں توچالیس ڈول سے ساٹھ ڈول تک اور چھ ہوں تو کل پانی نکالا جائے۔