اور زندہ نکل آئے تو بیس ڈول نکالا جائے، کوئی جانور چھوٹا ہو یا بڑا اگر کنویں میں گرے اور اس کے بدن پر نجاست کا لگا ہونا یقینی طور پر معلوم ہو تو کنواں ناپاک ہوجائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا یا جیسے مرغی نے پاخانہ کردیا اور فوراً پاؤں صاف ہونے سے پہلے کنویں میں گری، کنواں نجس ہوگیا کل پانی نکالا جائے یا جیسے چوہے نے پاخانہ کے حوض میں غوطہ کھایا اور فوراً کنویں میں گرا ، کل پانی نکالا جائے کیونکہ کنواں نجاست پڑنے سے ناپاک ہوا نہ کہ چوہے مرغی کے گرنے سے۔
مسئلہ۱۶: کنویں میں وہ جانور گرا جس کا جوٹھا پاک ہے ( جیسے بکری وغیرہ) یا جوٹھا مکروہ ہے (جیسے مرغی چوہا وغیرہ) اور پانی کچھ نہ نکالا اور وضو کرلیا تو وضو ہوجائے گا۔ (ردالمحتار، قاضی خان وغیرہ)
مسئلہ۱۷: جوتا یا گیند کنویں میں گرا اور اس کا نجس ہونا یقینی ہے تو کل پانی نکالا جائے ورنہ بیس ڈول۔ محض نجس ہونے پر خیال معتبر نہیں ۔ (بہارِ شریعت)
مسئلہ۱۸: مرغی کا تازہ انڈا جس پر ابھی تری باقی ہو پانی میں گر جائے تو پانی نجس نہ ہوگا، جب کہ پیٹ کی تری کے علاوہ کوئی اور نجاست نہ لگنے پائے، یوہیں بکری کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں گرا اور مرا نہیں تو بھی پانی ناپاک نہیں ہوگا۔
مسئلہ۱۹: اُڑنے والے حلال جانور جیسے کبوتر یا چڑیا کی بیٹ یا شکاری پرند جیسے چیل ، شکرا، باز کی بیٹ کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک نہ ہوگا، یوہیں چوہے اور چمگادڑ کے پیشاب سے بھی نجس نہ ہوگا۔ ( خانیہ وغیرہ )
مسئلہ۲۰: پیشاب کی بہت باریک باریک بندکیاں مثل سوئی کی نوک کے اور نجس غبار پڑنے