جائے لیکن اگر اس کی جڑ میں موم لگادیا تو بیس ڈول نکالا جائے ۔
مسئلہ۷: بلی نے چوہے کو پکڑا اور زخمی کردیا پھر اس سے چھوٹ کر کنویں میں گرا کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۸: کچا بچہ یا جو بچہ مردہ پیدا ہوا کنویں میں گر جائے تو سب پانی نکالا جائے اگرچہ گرنے سے پہلے نہلا دیا گیا ہو۔
مسئلہ۹: سور کنویں میں گراچاہے زندہ ہی نکل آیا کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۱۰: سور کے سوا کوئی اور جانور جس کا جوٹھا ناپاک ہے ( جیسے شیر، بھیڑیا، گیدڑ، کتا) کنویں میں گرا اوراُس کے بدن پر کسی نجاست کا لگا ہونا یقینی طور پر معلوم نہیں اور اس کا منہ پانی میں نہ پڑا تو پانی پاک ہے اس کا استعمال جائز ہے مگر احتیاطاً بیس ڈول نکالنا بہتر ہے۔
مسئلہ۱۱: کوئی جانور جس کا تھوک نجس ہے ( جیسے کتا، شیر، چیتا، گیدڑ، بھیڑیا) اگر کنویں میں گرا اور اس کا منہ پانی سے لگا تو کنواں ناپاک ہوگیاکل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۱۲: گدھا یا خچر کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا تو اس کا منہ اگر پانی میں پڑا تو ناپاک ہوگیا، کل پانی نکالا جائے اور اگر منہ نہ پڑا تو بیس ڈول نکالیں ۔ (قاضی خان وغیرہ )
مسئلہ۱۳: چُھٹی ہوئی مرغی کنویں میں گری اور زندہ نکل آئی تو چالیس ڈول نکالا جائے۔
مسئلہ۱۴:جن جانوروں کا جوٹھا پاک ہے جیسے بھیڑ بکری گائے بھینس، ہرن، نیل گاؤ ان میں سے کوئی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے تو کنواں پاک ہے لیکن بیس ڈول نکال ڈالیں ۔ (قاضی خان وغیرہ )
مسئلہ۱۵: جن جانوروں کا جوٹھا مکروہ ہے ( جیسے بلی یا چوہا یا سانپ یا چھپکلی) کنویں میں گرے