Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
84 - 263
کسی قسم کی شراب کا قطرہ یا ناپاک لکڑی یا نجس کپڑا یا اور کوئی ناپاک چیز گری تو اس کا کل پانی نکالا جائے۔  (خانیہ وغیرہ ) 
کن باتوں سے کنواں ناپاک ہوجاتا ہے 
	جن چوپایوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا اُن کے پاخانہ پیشاب گرنے سے کنواں ناپاک ہوجائے گا، یونہی مرغی اور بط کی بیٹ سے ناپاک ہو جائے گا اور ان سب صورتوں میں کل پانی نکالاجائے ۔
مسئلہ۲:  جس کنویں کا پانی ناپاک ہوگیا اس کا ایک قطرہ بھی اگر پاک کنویں میں پڑجائے تو یہ بھی ناپاک ہوجائے گا جو حکم اس کا تھا وہی اس کا ہوگیا یوں ہی ڈول رسی گھڑ ا جن میں ناپاک کنوئیں کا پانی لگا تھا پاک کنوئیں میں پڑے وہ بھی ناپاک ہوگیا۔
مسئلہ۳: کب کتنا پانی نکالا جائے کہ کنواں پاک ہوجائے 
	کنویں میں آدمی، بکری یا کتا یا اَور کوئی دَموی جانور ان کے برابر یا ان سے بڑا گر کر مر جائے تو کل پانی نکالا جائے۔ 
مسئلہ۴:  مرغا، مرغی، بلی، چوہا، چھپکلی یا اور کوئی دموی جانور اس میں مر کر پھول جائے یا پھٹ جائے تو کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۵:  اگر یہ سب باہر مرے پھر کنویں میں گرے جب بھی یہی حکم ہے، یعنی کل پانی نکالا جائے۔ 
مسئلہ۶:  چھپکلی یا چوہے کی دم کٹ کر کنویں میں گر ی اگرچہ پھولی پھٹی نہ ہو کل پانی نکالا