Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
79 - 263
 نہانے میں سب پاک ہوجائے گا، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ پانی ڈال کر تہبند اور بدن پر ہاتھ پھیرنے سے نجاست اور پھیلتی ہے اور سارے بدن اور نہانے کے برتن تک کو نجس کردیتی ہے، اِس لیے ہمیشہ نہانے میں بہت خیال سے پہلے بدن سے اور اس کپڑے سے جس کو پہن کر نہاتے ہیں نجاست دور کرلیں تب غسل کریں ، ورنہ غسل تو کیا ہوگاا س ترہاتھ سے جن چیزوں کو چھوئیں گے سب نجس ہوجائیں گی، ہاں دریا تالاب میں البتہ ایساہوسکتا ہے وہ بھی جب کہ نجاست ایسی ہو کہ بلا مَلے دھوئے پانی کے دھکے سے خود بہہ کر نکل جائے ورنہ اس میں بھی دُشوار ہے۔
کن باتو ں سے غسل فرض ہوتا ہے ؟ 
	جن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے وہ پانچ باتیں ہیں :
 {۱}  منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر عضو سے نکلنا۔ 
 {۲} احتلام یعنی سوتے میں منی کا نکل جانا۔ 
 {۳}  شرم گاہ میں حشفہ تک چلا جانا خواہ شہوت سے ہو یا بلا شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو دونوں پر غسل فرض ہے۔ 
 {۴}  حیض یعنی ماہواری خون سے فراغت پانا۔ 
 {۵}  نفاس: بچہ جننے پر جو خون آتا ہو اس سے فارغ ہونا۔ 
مسئلہ۲: منی شہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا نہ ہوئی بلکہ بوجھ اُٹھانے یا بلندی سے گرنے کی وجہ سے نکلی تو غسل واجب نہیں البتہ وضو جاتا رہے گا۔ 
مسئلہ۳:  اگر منی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلا شہوت نکل آئیں