Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
78 - 263
 تہبند باندھے تو حرج نہیں ۔ یہ طریقہ جو غسل کا بیان ہوا اس میں تین باتیں فرض ہیں ، جن کے بغیر غسل نہ ہوگااورناپاکی نہ اُترے گی اورباقی سنت و مستحب ہیں اُن میں سے کسی بات کو چھوڑنا نہ چاہیے اگر کوئی بات چھوٹ گئی تو بھی غسل ہوجائے گا۔ 
فرائض غسل تین ہیں 
 {۱}  کلی اِس طرح پر کہ منہ کے ہر پرزے،گوشے، ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے، مسوڑھے، دانت کی کھڑکیاں زبان کی ہر کروٹ میں حلق کے کنارے تک پانی بہے، روزہ نہ ہوتو غرارہ کرے تاکہ پانی اچھی طرح ہر جگہ پہنچے، دانت میں کوئی چیز اٹکی ہو  (جیسے گوشت کا ریشہ چھالیہ کا چور، (1) پان کی پتی وغیرہ)  تو جب تک ضررو حر َج نہ ہو چھڑانا ضروری ہے، بے اُس کے غسل نہ ہوگااوربے غسل نماز نہ ہوگی۔ 
 {۲}  ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں میں جہاں نرم جگہ ہے وہاں تک دُھلنا کہ پانی کو سونگھ کر اُوپر چڑھائے تاکہ بال برابر جگہ بھی دُھلنے سے رہ نہ جائے نہیں تو غسل نہ ہوگا۔ اگر بلاق  (2)  نتھ کیل کا سوراخ ہو تو اس میں بھی پانی پہنچانا ضروری ہے، ناک کے اندررینٹھ نکٹی سوکھ گئی تو اس کا چھڑانابھی فرض ہے اور ناک کے بال کا دھونا بھی فرض ہے۔
 {۳}  پورے بدن پر پانی بہہ جانا اس طرح کہ پاؤں کے تلوے تک جسم کے ہر پرزے ہر رونگٹے پر پانی بہے ، اس لیے کہ اگر ایک بال کی نوک بھی دُھلنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا۔
تنبیہ:
	بہت لوگ ایسا کرتے ہیں کہ نجس تہبند باندھ کر غسل کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ



________________________________
1 -      یعنی چھالیہ کے ریزے
2 -      ایک زیورجوکہ ناک میں پہنتے ہیں۔