آپس میں ملائیں اور کپڑا وغیرہ بیچ میں نہ ہو) ان سب چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
مسئلہ۴: دکھتی ہوئی آنکھ سے جو پانی یا کیچڑ بہتا ہے، اس سے وضوٹوٹ جاتا ہے اوروہ نجس بھی ہے جس جگہ لگ جائے اس کا پاک کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ۵: نماز میں اتنی آواز سے ہنسنا کہ خود اس نے سنا پاس والوں نے نہ سنا تو وضو نہ ٹوٹا، البتہ نماز ٹوٹ گئی۔
مسئلہ۶: اگر مسکرایا یعنی دانت نکلے اور آواز بالکل نہ نکلی تو اس سے نہ وضو جائے نہ نماز۔
مسئلہ۷: جو رَطوبت آدمی کے بدن سے نکلے اور وضو نہ توڑے وہ نجس نہیں ، جیسے وہ خون جو بہہ ( 1) کر نہ نکلے یا تھوڑی قے جو منہ بھر ( 2) نہ ہو وہ پاک ہے۔
مسئلہ۸: رال،تھوک،پسینہ،میل پاک ہیں یہ چیزیں اگربدن یا کپڑے میں لگی ہوں تو نماز ہو جائے گی لیکن صاف کر لینا اچھا ہے۔
مسئلہ۹: جو آنسو رونے میں نکلتے ہیں نہ ان سے وضو ٹوٹے نہ وہ نجس۔
مسئلہ۱۰: گھٹنا یا ستر کھلنے سے اپنا یا دوسرے کا ستر دیکھنے سے یا چھونے سے وضو نہیں جاتا۔
مسئلہ۱۱: دودھ پیتے بچے نے قے کی اگر وہ منہ بھر ہے تو نجس ہے درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کردے گا، (3 ) لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔
________________________________
1 - وہ خون جو بہہ کر نہ نکلے وہ پاک ہے جیسے سوئی چبھوئی اورخون چمک کر رہ گیا باہر نکل کر بہا نہیں تو وضو نہ جائے گا۔ (۱۲منہ)
2 - منہ بھر قے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بے تکلف روک نہ سکتا ہو۔ مسئلہ: بلغم کی قے وضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (۱۲منہ)
3 - یعنی یہ قے کیا ہوا دودھ۔