Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
76 - 263
 آپس میں ملائیں اور کپڑا وغیرہ بیچ میں نہ ہو)  ان سب چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 
مسئلہ۴:  دکھتی ہوئی آنکھ سے جو پانی یا کیچڑ بہتا ہے، اس سے وضوٹوٹ جاتا ہے اوروہ نجس بھی ہے جس جگہ لگ جائے اس کا پاک کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ۵:  نماز میں اتنی آواز سے ہنسنا کہ خود اس نے سنا پاس والوں نے نہ سنا تو وضو نہ ٹوٹا، البتہ نماز ٹوٹ گئی۔  
مسئلہ۶:  اگر مسکرایا یعنی دانت نکلے اور آواز بالکل نہ نکلی تو اس سے نہ وضو جائے نہ نماز۔
مسئلہ۷: جو رَطوبت آدمی کے بدن سے نکلے اور وضو نہ توڑے وہ نجس نہیں ، جیسے وہ خون جو بہہ ( 1) کر نہ نکلے یا تھوڑی قے جو منہ بھر ( 2)  نہ ہو وہ پاک ہے۔
مسئلہ۸:  رال،تھوک،پسینہ،میل پاک ہیں یہ چیزیں اگربدن یا کپڑے میں لگی ہوں تو نماز ہو جائے گی لیکن صاف کر لینا اچھا ہے۔
مسئلہ۹:  جو آنسو رونے میں نکلتے ہیں نہ ان سے وضو ٹوٹے نہ وہ نجس۔
مسئلہ۱۰: گھٹنا یا ستر کھلنے سے اپنا یا دوسرے کا ستر دیکھنے سے یا چھونے سے وضو نہیں جاتا۔
مسئلہ۱۱:  دودھ پیتے بچے نے قے کی اگر وہ منہ بھر ہے تو نجس ہے درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کردے گا، (3 )  لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔



________________________________
1 -      وہ خون جو بہہ کر نہ نکلے وہ پاک ہے جیسے سوئی چبھوئی اورخون چمک کر رہ گیا باہر نکل کر بہا نہیں تو وضو نہ جائے گا۔ (۱۲منہ) 
2 -      منہ بھر قے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بے تکلف روک نہ سکتا ہو۔ مسئلہ:  بلغم کی قے وضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (۱۲منہ) 		
3 -      یعنی یہ قے کیا ہوا دودھ۔