Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
74 - 263
 مسئلہ۱: کسی عضو کے دُھل جانے کا یہ مطلب ہے کہ اس عضو کے ہر حصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہہ جائے، بھیگ جانے یا تیل کی طرح پانی چپڑ لینے سے یا ایک آدھ بوند بہہ جانے سے دھونا نہیں ہوتا، اس طرح دھونے سے وضو یا غسل نہیں ہوتا۔
 مسئلہ۲: اونٹھ ( 1) ، ناخن، آنکھ، کے اوپر نیچے کی کھال، بال، پلک، برونی زیوروں (2 ) کے نیچے کی کھال، حتی کہ کیل، نتھ کا سوراخ، داڑھی مونچھ کے بالوں کے نیچے کی کھال کی کوئی جگہ یا اِن چاروں عضو کی کوئی جگہ بال کی نوک برابر بھی اگر دُھلنے سے رہ گئی تو وضو نہ ہوگا۔ 
مسئلہ۳:  وضو نہ ہو تو نماز اور سجدہ تلاوت اور قرآن شریف کے چھونے کے لیے وضو فرض ہے اور طواف کے لیے واجب  ہے۔ 
وضو کے مکروہات 
	یعنی وہ باتیں جو وضو میں نہ ہونی چاہئیں :
 {۱}  عورت کے غسل یا وضو کے بچے پانی سے وضو کرنا
 {۲} نجس جگہ وضو کا پانی گرانا
 {۳} مسجد کے اندر وضو کرنا
 {۴} وضو کے پانی کے قطرے وضو کے برتن میں ٹپکانا 
 {۵} قبلہ کی طرف کلی کا پانی یا ناک یا کھکھار یا تھوک ڈالنا
 {۶} بے ضرورت دنیا کی باتیں کرنا
 {۷} زیادہ پانی خرچ کرنا 



________________________________
1 -      ہونٹ	
2 -      بیرونی زیورجیسے کنگن،چھلے،انگوٹھی وغیرہ