اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْک۔ (1 )
اور کلمہ شہادت اور سورۃ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ پڑھے اور بہترکہ ہر عضو دھوتے وقت بِسْمِ اللّٰہ اور دُرود شریف پڑھے اور کلمہ شہادت بھی پڑھے۔ یہ وضو کا طریقہ جواُوپر بیان ہوا اس میں کچھ باتیں فرض ہیں کہ جن کے چھوٹنے سے وضو نہ ہوگا اور کچھ باتیں سنت ہیں کہ جن کے قصداً چھوڑنے کی عادت قابل سزا اور کچھ باتیں مستحب ہیں کہ اِن کے چھوٹنے سے ثواب کم ہو جاتا ہے۔
فرائض وضو
وضو میں چار باتیں فرض ہیں :
{۱} منہ کا دھونا یعنی ماتھے کی جڑ جہاں سے بال جمتے ہیں ، وہاں سے لے کر ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک منہ کی کھال کے ہر حصہ پر ایک بار پانی بہنا۔
{۲} کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ کا ایک بار دُھلنا۔
{۳} چوتھائی سر کا مسح یعنی چوتھائی سر پر بھیگے ہاتھ کا پھیرنا یا کسی صورت سے کم از کم اتنی جگہ کا تر ہوجانا۔
{۴} دونوں پاؤں کا گٹوں سمیت ایک بار دُھلنا۔ یہ چار باتیں وضو میں فرض ہیں اور ان کے سوا جو کچھ طریقۂ وضو میں بیان کی گئیں وہ سب یا سنت یا مستحب ہیں اور وضو کی سنتیں اور مستحبات بہت ہیں جو ان سب کو جاننا چاہے وہ ’’ بہار شریعت ‘‘ اور ’’ فتاویٰ رضویہ ‘‘ وغیرہ مطبوعات دیکھے۔
________________________________
1 - تیری ذات پاک ہے اور اے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) تیرے ہی لیے تمام خوبیاں ہیں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔