Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
68 - 263
 تمام مسائل میں ایک معین امام کی پیروی واجب ہے اور یہ بھی جائز نہیں کہ حنفی شافعی ہوجائے یا شافعی حنفی ہوجائے بلکہ جو آج تک جس امام کا مقلد رہا ہے آئندہ بھی اسی کی تقلید کرے اور اب تمام علماء کا اتفاق ہے کہ چاروں اماموں کے علاوہ کسی اور امام و مجتہد کی تقلید جائز نہیں۔ (1 ) 
ھٰھُنَا قَدْ تَمَّتِ الْعَقَائِدُ السُّنَّۃِ السُّنِّیَّۃِ بِفَضْلِہٖ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی
وَ یَتْلُوْاھَا کِتَابُ الصَّلٰوۃ



________________________________
1 -      شاہ ولی اللّٰہ صاحب دہلوی  (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہ) اپنی کتاب ’’الانصاف‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’ بعد المأتین ظہر بینھم التمذھب للمجتھدین با عیانھم...الخ ‘‘ یعنی دو صدی ہجری کے بعد خاص ایک مجتہدکی پیروی مسلمانوں میں رائج ہوئی اور کم کوئی شخص تھا جو امام معین کی پیروی نہ کرتا ہو اور یہی واجب ہے اس زمانہ میں ۔ 
             طحطاویہ حاشیہ در مختار میں ہے: ’’ ھذہ الفرقۃ الناحیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ و ھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ‘‘  یعنی اب اہل سنت کا گروہ انہیں چاروں کی پیروی میں منحصر ہوگیا ہے جو ان چار سے باہر ہے وہ بدعتی جہنمی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر،کتاب الذبائح،۴/ ۱۵۳) 
         اما م شعرانی نے میزان شریعت کبریٰ میں امام غزالی و امام الحرمین وغیرہ آئمہ  (رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ السَّلَام)  کا قول یوں نقل کیا ہے:  ’’ وقالوا لتلامذتھم  یجب علیکم التقلید بمذھب امامکم  ولا عذر لکم عند اللّٰہ تعالٰی فی العدول عنہ  ‘‘ یعنی ان سب اماموں نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ تم پر خاص اپنے امام کے مذہب کا پابند رہنا واجب ہے، اگر ان کے مذہب کو چھوڑا تو خدا کے حضور تمہارے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔ ۱۲منہ سلمہ ۔  (المیزان الکبری الشعرانیۃ،۱/ ۵۳)