Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
65 - 263
 مرنے کے بعد ان کے کمالات اور قوتیں (1 ) اور بڑھ جاتی ہیں اُن کے مزار کی حاضری فیض سعادت اور برکت کا سبب ہے، اُن کو ایصالِ ثواب امر مستحب اور باعث برکت ہے، اولیاء کرام کاعرس ( 2) 



________________________________
1 -      یہی شیخ دہلوی   (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی)  اسی ’’  تکمیل الایمان ‘‘ میں لکھتے ہیں :اولیاء را ابدان مکتسبہ مثالیہ نیز بود کہ بدان ظھور نمایند  وامداد  و ارشاد طالبان کنند و منکران را دلیل و برھان برانکار آں نیست یکے از مشائخ گفتہ است کہ چھار کس از اولیاء را دیدم کہ در قبر خود تصرف می کنند مثل تصرف ایشاں درحالت حیات یا بیشتر از آں جملہ شیخ معروف کرخی و شیخ عبدالقادر جیلانی و در دیگر  را از اولیاء نیز شمردہ یعنی اولیاء اپنے ابدان مثالیہ میں ظاہر ہو کر طالبین کی تعلیم و امداد فرماتے ہیں اور منکروں کے پاس اس کے انکار کی کوئی دلیل نہیں ،ایک شیخ نے فرمایا کہ چار بزرگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں بھی اسی طرح تصرف کرتے ہیں جس طرح کہ زندگی میں یا اس سے بڑھ کر اور منجملہ ان کے حضرت معروف کرخی، حضرت غوث اعظم اور دو اور ولیوں کو بتایا۔ (۱۲منہ)  (تکمیل الایمان،دراستمداد قبور،ص۱۲۳) 
2 -      شاہ ولی اللّٰہ صاحب  (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کی ’’انفاس العارفین ‘‘اور شاہ عبدالعزیزصاحب   (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)  کی’’ تحفہ اثنا عشریہ‘‘ کی عبارتوں سے ظاہر ہے کہ اولیاء کو اپنے مزار میں لوگوں کے حالات کی اطلاع ہوتی ہے اور مزار پر آنے والے کو جس بات کی چاہیں خبر دیتے ہیں اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ اور آپ کی اولاد کو تمام امت مثل اپنے پیرو مرشد کے مانتی ہے اور امور تکوینیہ کو ان سے وابستہ جانتی ہے اور فاتحہ اور درود و صدقات و نذران کے نام کی تمام امت میں رائج و معمول ہے جیسا کہ تمام اولیاء کے ساتھ یہی معاملہ ہے کہ فاتحہ ، نذر ،عرس و مجلس تمام امت کرتی ہے۔  (تحفہ)    (تحفہ اثنا عشریہ ، باب ہفتم درامامت،ص۲۱۴)  نیز یہی شاہ عبدالعزیز صاحب  (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)  اپنی تفسیر پارہ عم صفحہ۱۴۰ میں لکھتے ہیں :  بعضے از خواص اولیاء اللّٰہ راکہ آلہ جارحہ تکمیل و ارشاد بنی نوع خود گردانیدہ  اند دریں حالت ھم تصرف در دنیا دادہ و استغراق آنھا بہ جھت کمال وسعت مدارک آنھا مانع توجہ بایں سمت نمی گردد و اویسیان تحصیل کمالات باطنی از آنھا مے نمایند وارباب حاجات و مطالب حل مشکلات خود از آنھا می طلبند ومی یابند و زبان حال آنھا درآں وقت ھم مترنم بایں مقالات است۔ ع ’’و من آیم بحان گر تو آئی بہ تن‘‘ (تفسیر عزیزی، پارہ عم، ص۱۱۳)  احادیث صحاح میں وارد کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلمہر سال کے سرے پر شہدائے احد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی زیارت کو تشریف لے جاتے تھے۔ ۱۲منہ   (مصنف عبد الرزاق،کتاب الجنائز،باب فی زیارۃ القبور،۳/ ۳۸۱،حدیث:۶۷۴۵)