Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
64 - 263
 و مجاہدہ کے بھی مل جاتا ہے، تمام اولیاء میں سب سے بڑا درَجہ حضرات خلفائے اَربعہ (1 )   (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم)  کا ہے، اولیاء ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے لیکن اُن کا پہچاننا آسان نہیں۔ حضراتِ اولیاء کو اللّٰہ تعالیٰ نے بڑی طاقت دی ہے جو اُن سے مدد مانگے ہزاروں کوس کی دوری سے اس کی مدد فرماتے ہیں۔
اولیاء اللّٰہ کا علم وقدرت 
	ان کا علم نہایت وسیع ہوتا ہے حتی کہ بعضوں کو ماکان وما یکون (2 )   و لوحِ محفوظ پر اطلاع دیتے ہیں، (3 ) 



________________________________
1 -      مومن: مسلمان صحیح العقیدہ۔ صالح: پرہیز گار، نیک۔ معرفت: علم، پہچان۔ قرب: نزدیکی، مقبولیت۔ خلفائے اربعہ: چاروں خلیفہ یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم۔  (۱۲منہ) 
2 -      وسیع: پھیلا ہوا۔ ماکان وما یکون: جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا۔ (۱۲منہ) 
3 -      حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ اپنی کتاب’’ تکمیل الایمان ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں : مشائخ صوفیہ قدس اسرار ھم  گویند کہ تصرف بعضے اولیا در عالم برزخ دائم وباقی است و توسل واستمداد بارواح مقدسہ ایشاں ثابت و موثر یعنی اولیاء انتقال کے بعد بھی تصرف کرتے ہیں ان کو وسیلہ بنانا اور ان سے مدد مانگنا ثابت و موثر ہے۔  (تکمیل الایمان،دراستمداد قبور،ص۱۲۳)  امام علامہ تفتازانی   (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے’’ شرح مقاصد‘‘ میں اہلسنّت کے نزدیک علم و اِدراک موتی ٰکی تحقیق کرکے فرمایا :  وھذا ینتفع  بزیارۃ الابرار والاستعانۃ بنفوس الاخیاریعنی اس لیے اولیاء کی قبروں کی زیارت اوربزرگوں کی روحوں سے مد د مانگنا نفع دیتا ہے۔  (شرح المقاصد،المقصد الرابع فی الجواہر،المبحث الرابع،۲/ ۴۸۰)   حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :ھر کہ استمداد  کردہ میشود بوی در حیات استمداد  کردہ میشود  بوے بعد از وفاتیعنی جس سے زندگی میں مدد مانگ سکتے ہیں اس سے مرنے کے بعد بھی مدد مانگ سکتے ہیں ۔ (شرح مشکوۃ)   (اشعۃ اللمعات،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،۱/ ۷۶۲)  نیز انہیں امام غزالی  (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہ) نے اپنے رسالہ لدنیہ میں لکھا ہے کہ قال رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُْ َعَلَیْہِ وَسَلَّم:’’ما من عبد الا ولقلبہ عینان‘‘ وھما عینان یدرک بھما الغیب فاذا اراد اللّٰہ تعالٰی بعبد خیرا فتح عینی قلبہ لیری ما ھو غائب عن بصرہ وھذا الروح لایموت لموت البدن۔یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ بندے کے دل کی آنکھیں کھول دیتا ہے تو وہ غیب کی باتیں جان لیتا ہے اور یہ روح بدن کے مرنے سے مرتی نہیں ۔ ۱۲منہ (مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، الرسالۃ اللدنیۃ، ص۲۲۶)