واللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خلاف ہے۔ ( 1)
وِلایت کا بیان
وَلی کی تعریف
وَلی وہ مومن صالح ہے جس کو معرفت و قربِ الٰہی کا ایک خاص درَجہ ملا ہے،اکثر شریعت کے مطابق ریاضت و عبادت کرنے کے بعد ولایت کا درَجہ ملتا ہے اور کبھی ابتداء ًبلا ریاضت
________________________________
1 - قرآن و حدیث میں صحابیوں کی بہت فضیلت آئی ، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو خیر امت کا لقب دیا اور فرمایا کہ ہم ان سے راضی اور وہ ہم سے راضی ہیں ۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ۴،آل عمران:۱۱۰) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہ۔ ( پارہ ۱۱ رکوع ۲) ۔ (التوبۃ :۱۰۰) ۔ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں : لا تسبوا اصحابی فلو ان احد کم ان انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصفہیعنی میرے اصحاب کو برا نہ کہو ( خدا کے یہاں ان کی اتنی مقبولیت ہے) کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خدا کی راہ میں خرچ کرے تو ان کے آدھے مُد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ( بخاری ،کتاب فضائل الصحابۃ،باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،۲/ ۵۲۲، حدیث: ۳۶۷۳) اور فرمایا:اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضہم فببغضی ابغصھم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ ومن اذی اللّٰہ یوشک ان یاخذہیعنی اللّٰہسے ڈرواللّٰہ سے ڈرو میرے اصحاب کے بارے میں میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا کہ جو انہیں دوست رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے دوست رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے اور جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذا دی اس نے بلاشک اللّٰہ کو ایذادی اور جس نے اللّٰہ تعالیٰ کو ایذا دی قریب ہے کہ اللّٰہ اسے پکڑ ے گا۔ (۱۲منہ) (ترمذی،کتاب المناقب،باب فی من سب اصحاب النبی،۵/ ۴۶۳،حدیث:۳۸۸۸)