ہے، ایک: بدعت حسنہ، دوسری: بدعت سیئہ۔ بدعت حسنہ وہ ہے جو کسی سنت کے مخالف و مزاحم (1 ) نہ ہو، جیسے مسجدیںپکی بنوانا، قرآن شریف سنہرے لفظوں سے لکھنا، زبان سے نیت کرنا، علم کلام، علم صرف، علم نحو، علم ریاضی، خصوصاً علم ہیئت و ہندسہ پڑھنا پڑھانا، آج کل کے مدرسے، وعظ کے جلسے، سندودستار وغیرہ سیکڑوں ایسی چیزیں ہیں جو حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زمانہ میں نہ تھیں، وہ سب بدعت حسنہ ہیں، ایسی کہ بعض واجب تک ہیں جیسے تراویح (2 ) کی نسبت حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا ارشاد نِعْمَتِ البِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یہ اچھی بدعت ہے۔ بدعت سیئہ قبیحہ وہ ہے جو کسی سنت کے مخالف و مزاحم ہو اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔
امامت و خلافت کا بیان
امامت دو قسم کی ہے، ایک: امامت صغریٰ، دوسری: امامت ِکبریٰ۔ امامت ِصغریٰ نماز کی امامت ہے جس کا حال نماز کے بیان میں آئے گا۔
اِمامت کبریٰ کی شرائط
امامت کبریٰرسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّم کی نیابت مطلقہ ہے یعنی حضور کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام دینی دنیوی کاموں میں شریعت کے موافق عام تصرف کرنے کا اختیار اور غیر معصیت میں تمام جہان کے مسلمانوں سے اطاعت کرانے کا حق، اس امامت کے لیے مسلمان آزاد، مرد، عاقل، بالغ، قرشی، قادر ہونا ( 3) شرط ہے۔ہاشمی علوی معصوم ہونا
________________________________
1 - یعنی سنت کے خلاف اور سنت پر عمل سے روکنے والی۔
2 - یعنی با جماعت تراویح
3 - قادر کے یہ معنی ہیں کہ شرعی فیصلہ اور حدود کو جاری کرسکے ظالم سے مظلوم کا حق دلانے کی اور مسلمانوں کی جان و مال ملک واملاک کی حفاظت کی طاقت ہو۔ ۱۲منہ سلمہ