Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
57 - 263
 ہی جانیں اورکافر ہی کا سا برتاؤ اس کے ساتھ کریں، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہے اور اس کا کوئی قول وفعل اسلام کے خلاف نہیں ہے، تو فرض ہے کہ ہم اُسے مسلمان ہی سمجھیں، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں۔
 عقیدہ۲۵:  کفرو اسلام کے سوا کوئی تیسرا درَجہ نہیں۔ آدمی یا مسلمان ہوگا یا کافر، ایسا نہیں کہ نہ کافر ہو نہ مسلمان بلکہ ایک ضرور ہوگا۔ 
 عقیدہ۲۶:   مسلمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے کبھی نکالے نہ جائیں گے اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے کبھی نہ نکالے جائیں گے۔ 
مسئلہ۲:اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ)  کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کا حکم 
	اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)  کے سوا کسی اور کو سجدہ تعبدی (1 ) کفر ہے اور سجدہ تعظیمی حرام ہے۔  (2 ) 
بدعت کی تعریف 
	جوبات رسول اللّٰہ     صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے اور یہ دو قسم کی



________________________________
1 -      یعنی عبادت کی نیت سے سجدہ کرنا۔	
2 -      اذا سجد لانسان سجدۃ تحیۃ لا کفر۔  (عالمگیری)  اگر کسی آدمی کو سجدہ تعظیمی کیا تو کافر نہیں ہوا۔ (۱۲منہ)  (الفتاوی الہندیۃ،کتاب السیر،الباب السابع فی احکام المرتدین،۲/ ۲۷۹) 
3 -      قال النووی  (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی)  : البدعۃ فی الشرع احداث مالم یکن فی عھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (تہذیب الاسماء واللغات،حرف البائ،۳/ ۲۰)  وقال البیضاوی  (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)  فی تفسیرہ: البدعۃ اختراع الشیء لا عن شیء ۔ (تفسیر البیضاوی، سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ:۱۱۷، ۱/ ۳۹۰)  وقال الغزالی   (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیْ) : البدعۃ المذمومۃ ما یراغم السنۃ.  (احیاء علوم الدین،کتاب آداب تلاوۃ القرآن،الباب الثانی،۱/ ۳۶۷) ۱۲منہ۔